حدثنا أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَلِيفة بن خيَّاط قال: المِسوَر بن مخرمة بن نَوفَل بن أُهَيْب بن عبدِ مَناف بن زُهْرة، أمُّه عاتكةُ بنت عَوْف أختُ عبد الرحمن بن عوف.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کی والدہ عاتکہ بنت عوف تھیں جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أَبي، عن الوليد بن كثير، حدثني محمد ابن عَمْرو بن حَلحَلَة الدِّيلِي، أنَّ ابن شهاب حدَّثه، أنَّ عليَّ بن الحسين حدَّثه: أنهم حين قَدِموا المدينةَ من عند يزيد بن معاوية بعد مَقتَل الحُسين بن علي رضوان الله وسلامه عليهما، لقيه المِسورُ بن مَخرَمة فقال: سمعت النبيَّ ﷺ يَخطُب على مِنبَرِه وأنا يومئذٍ محتلِمٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6224 - روياه بالمعنى
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6224 - روياه بالمعنى
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے واپس مدینہ پہنچے تو ان کی ملاقات سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو ان کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا جبکہ میں اس وقت قریب البلوغ تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خياط قال: مات المِسوَر بن مَخرمَة بمكَّة سنة أربع وستِّين، ويقال: إنه مات بالحَجُون؛ أصابه حجر المنجنيق، وهو في الحِجْر بمكة، فمَكَثَ خمسًا ثم مات، وصلَّى عليه عبد الله بن الزُّبير وهو ابن ثمانٍ وستين سنة.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 64 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہوئی، اور کہا جاتا ہے کہ ان کی وفات مقامِ حجون پر ہوئی؛ وہ مکہ میں حطیم (حجر) میں موجود تھے کہ منجنیق کا ایک پتھر انہیں لگا، جس کے پانچ دن بعد ان کی وفات ہو گئی، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی جبکہ ان کی عمر 68 برس تھی۔
أخبرني مَخلَد بن جعفر، حدثنا محمد بن جَرِيرٍ (2) قال: وُلِدَ المِسوَر ابن مَخرَمة بمكة بعد الهجرة بسنتين، وتُوفِّيَ لهلال شهر ربيع الآخر سنة أربع وستين، وكان يحيى بن مَعِين فيما حُدِّثتُ عنه يقول: مات المسور بن مَخرَمة سنة ثلاث وسبعين، وهذا غلطٌ من القول.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن جریر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہجرت کے دو سال بعد مکہ میں ہوئی، اور ان کی وفات یکم ربیع الآخر سن 64 ہجری کو ہوئی، اور یحییٰ بن معین سے جو یہ روایت منقول ہے کہ ان کی وفات سن 73 ہجری میں ہوئی وہ ایک غلط قول ہے۔
حدثنا أبو الحسين (1) محمد بن عبد الله بن زكريا الفقيه، حدثنا زكريا ابن يحيى الساجِيّ، حدثنا عبد العزيز بن محمد بن الحسن بن زَبَالةَ المخزومي، حدثني أبو بكر بن عبد الله بن جعفر المَحْرَمي، حدثني أخي المَسوَر بن عبد الله، عن أبيه قال: حدثتني أمُّ بكر بنت المِسوَر بن مخرمة، عن أبيها قال: أطعَمَني رسولُ الله ﷺ تمرًا في طبقٍ ليس من بَزْنيِّكم هذا، وتُوفِّي رسول الله ﷺ وأنا ابنُ إحدى عشرةَ سنة (2).
حافظ طلحہ بابر
ام بکر بنت مسور بن مخرمہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک تشتری میں کھجوریں کھلائیں جو تمہاری ان بزی تشتریوں جیسی نہ تھی، اور جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں گیارہ برس کا تھا۔“