حدیث نمبر: 6353
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أَبي، عن الوليد بن كثير، حدثني محمد ابن عَمْرو بن حَلحَلَة الدِّيلِي، أنَّ ابن شهاب حدَّثه، أنَّ عليَّ بن الحسين حدَّثه: أنهم حين قَدِموا المدينةَ من عند يزيد بن معاوية بعد مَقتَل الحُسين بن علي رضوان الله وسلامه عليهما، لقيه المِسورُ بن مَخرَمة فقال: سمعت النبيَّ ﷺ يَخطُب على مِنبَرِه وأنا يومئذٍ محتلِمٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6224 - روياه بالمعنى
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے واپس مدینہ پہنچے تو ان کی ملاقات سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو ان کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا جبکہ میں اس وقت قریب البلوغ تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6353
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6353] [ترقيم الشركة 6283] [ترقيم العلميه 6224]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18913)، والبخاري (3110)، ومسلم (2449)، وأبو داود (2069)، والنسائي (8314) و (8469)، وابن حبان (6956) من طرق عن يعقوب بن إبراهيم، بهذا الإسناد. وذكروا فيه قصة خطبة علي بن أبي طالب لابنة أبي جهل على فاطمة، وقول النبي ﷺ: "إنَّ فاطمة مني … " إلى آخره. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/ 18913)، بخاری (3110)، مسلم (2449) اور دیگر کتبِ ستہ میں یعقوب بن ابراہیم کی سند سے روایت کیا گیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس میں حضرت علی کے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دینے اور نبی ﷺ کے اس فرمان کا ذکر ہے کہ: "فاطمہ مجھ سے ہے..."۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک کرنا ان کا 'ذہول' ہے کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6353 سے ماخوذ ہے۔