کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اسلام کا تہائی حصہ شمار ہوتے تھے
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بن إبراهيم، أخبرني هاشم، عن عامر بن سعد، عن أبيه قال: لقد رأيتُني وأنا لثُلثُ الإسلام (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6116 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6116 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسلام لانے والوں میں تیسرا (یعنی کل مسلمانوں کا ایک تہائی) تھا۔“
قال: وحدثنا هاشم بن هاشم، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن أبي وقّاص قال: ما أسلمَ أحدٌ في اليوم الذي أسلمتُ فيه، ولقد مَكَثتُ سبعَ ليالٍ ثُلثَ الإسلام (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس دن میں اسلام لایا اس دن میرے علاوہ کوئی اور اسلام نہیں لایا تھا، اور میں سات راتوں تک اس حال میں رہا کہ میں اسلام کا تہائی (حصہ) تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا الخَصِيب بن ناصح، حدثتنا عُبيدة بنت (3) نابلٍ، عن عائشة بنت سعد، عن أبيها: أنَّ النَّبِيّ ﷺ جلس في المسجد ثلاثَ ليالٍ يقول: "اللهمَّ أدخِلْ من هذا الباب عبدًا يحبُّك وتحبُّه"؛ فدخل منه سعدٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6117 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6117 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عائشہ بنت سعد اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ تین راتوں تک مسجد میں اس حال میں بیٹھے رہے کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَدْخِلْ مِنْ هَذَا الْبَابِ عَبْدًا يُحِبُّكَ وَتُحِبُّهُ» ”اے اللہ! اس دروازے سے ایسے بندے کو داخل فرما جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تو اس سے محبت کرتا ہو،“ پس وہاں سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔