المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ سَعْدٌ ثُلُثَ الْإِسْلَامِ باب: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اسلام کا تہائی حصہ شمار ہوتے تھے
حدیث نمبر: 6236M
قال: وحدثنا هاشم بن هاشم، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن أبي وقّاص قال: ما أسلمَ أحدٌ في اليوم الذي أسلمتُ فيه، ولقد مَكَثتُ سبعَ ليالٍ ثُلثَ الإسلام (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس دن میں اسلام لایا اس دن میرے علاوہ کوئی اور اسلام نہیں لایا تھا، اور میں سات راتوں تک اس حال میں رہا کہ میں اسلام کا تہائی (حصہ) تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري (3727)، وابن ماجه (132) من طريق يحيى بن أبي زائدة، والبخاري أيضًا (3858) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، كلاهما عن هاشم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3727) اور ابن ماجہ (132) نے یحییٰ بن ابی زائدہ سے، اور دوبارہ بخاری نے (3858) پر ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا 'ذہول' (بھول چوک) ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري (3727)، وابن ماجه (132) من طريق يحيى بن أبي زائدة، والبخاري أيضًا (3858) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، كلاهما عن هاشم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3727) اور ابن ماجہ (132) نے یحییٰ بن ابی زائدہ سے، اور دوبارہ بخاری نے (3858) پر ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا 'ذہول' (بھول چوک) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6236 سے ماخوذ ہے۔