کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کی سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا
حَدَّثَنَا (2) يحيى بن عبد الله بن أبي قَتَادة عن أبيه، عن أبي قَتَادة، قال: أدرَكَني رسولُ الله ﷺ يومَ ذي قَرَدٍ، فنظر إليَّ فقال: "اللهمَّ بارِكْ له في شَعَرِه وبَشَرِه" وقال: "أفلَحَ وجهُك"، قلتُ: ووجهُك يا رسول الله، قال: "قتلتَ مَسْعَدةَ؟ " قلت: نعم، قال: "فما هذا الذي بوَجهِك؟ " قلتُ: سهمٌ رُمِيتُ به يا رسول الله، قال: "فادْنُ"، فدَنَوتُ منه، فبَصَقَ عليه، فما ضَرَبَ عَلَيَّ قطُّ ولا قاحَ. قال ابن عمر: وحدثني يحيى بن عبد الله بن أبي قَتَادة قال: تُوفي أبو قَتَادة بالمدينة سنةَ أربعٍ وخمسين وهو ابن سبعين (1). قال ابن عمر: ولم أرَ بين ولد أبي قَتَادة وأهل البلد عندنا اختلافًا أنَّ أبا قَتَادة تُوفي بالمدينة، وقد روى أهلُ الكوفة أنَّ أبا قَتَادة مات بالكوفة (2).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ذی قرد کے دن رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے، آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا اور دعا فرمائی: «اللهمَّ بارِكْ له في شَعَرِه وبَشَرِه» ”اے اللہ! اس کے بالوں اور اس کی جلد (کھال) میں برکت عطا فرما،“ اور فرمایا: ”تیرا چہرہ بامراد ہوا،“ میں نے عرض کیا: اور آپ کا چہرہ بھی یا رسول اللہ، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے مسعدہ کو قتل کر دیا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہارے چہرے پر یہ کیا (نشان) ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تیر لگا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آؤ،“ میں قریب ہوا تو آپ ﷺ نے اس پر اپنا لعابِ دہن لگایا، پھر وہ زخم نہ کبھی دکھا اور نہ ہی اس میں پیپ پڑی۔ یحییٰ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی وفات 54 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر ستر برس تھی، ابن عمر کہتے ہیں کہ ابو قتادہ کی اولاد اور اہل مدینہ کے نزدیک اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ان کی وفات مدینہ میں ہوئی، البتہ اہل کوفہ نے روایت کیا ہے کہ ان کا انتقال کوفہ میں ہوا۔
یہ حدیث صحیح ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6145
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6145] [ترقيم الشركة 6087]
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقفي، أخبرني أبو يونس، أخبرنا إبراهيم بن المنذر، قال: أبو قَتَادة بن رِبْعيٍّ أحدُ بني سَلِمة، توفي بالمدينة سنة أربعٍ وخمسين وهو ابن سبعين (3). ذكرُ مناقب ثَوْبان مولي رسول الله ﷺ ﵁
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر سے روایت ہے کہ بنو سلمہ کے فرد ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کی وفات 54 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر ستر برس تھی۔
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6146
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6146] [ترقيم الشركة 6088]