حَدَّثَنَا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسَدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني سُليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة عن أُمِّه: أنَّ امرأةً دخلت بيتَ عائشة، فصَلَّت عند بيت النَّبِيّ ﷺ وهي صحيحةٌ، فَسَجَدَت، فلم تَرفَعْ رأسَها حتَّى ماتت، فقالت عائشة: الحمدُ لله الذي يحيي ويميت، إنَّ في هذه لَعِبرةً لي في عبد الرحمن بن أبي بكر، رَقَدَ في مَقِيل له قالَهُ، فذهبوا يُوقِظونَه فَوَجَدوه قد مات؛ فدخل نفسَ عائشةَ تُهمةُ أن يكون صُنِعَ به شرٌّ، أو عُجِل عليه فدُفِن وهو حيٌّ، فرأت أنه عِبرةٌ بها، وذَهَب ما كان في نفسِها من ذلك (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6011 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6011 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہوئی اور نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک کے پاس نماز پڑھی، وہ بالکل تندرست تھی، پھر وہ سجدے میں گئی اور اس نے اپنا سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے، یقیناً اس واقعے میں میرے لیے میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر کے معاملے میں ایک عبرت ہے، وہ اپنے آرام کرنے کے مقام پر سوئے تھے، پھر جب لوگ انہیں بیدار کرنے گئے تو انہیں مردہ پایا، پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ کہیں ان کے ساتھ کوئی برا سلوک تو نہیں کیا گیا یا انہیں زندہ ہی دفن کرنے میں جلدی تو نہیں کی گئی، پھر انہوں نے اس عورت کی موت کو اپنے لیے تسلی کا ذریعہ پایا اور ان کے دل میں جو وسوسہ تھا وہ دور ہو گیا۔“
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا التُّستَري، حَدَّثَنَا خليفة بن خيّاط: قال: ماتَ عبد الرحمن بن أبي بكرٍ سنةَ ثلاثٍ وخمسين، وشَهِدَ الجَمَل مع أخته عائشة، وقَدِمَ على ابن عامرٍ البصرةَ (2).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی وفات 53 ہجری میں ہوئی، وہ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جنگِ جمل میں شریک ہوئے تھے اور ابن عامر کے پاس بصرہ بھی تشریف لے گئے تھے۔