حدیث نمبر: 6114
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، أخبرنا (1) المَعْمَريُّ، قال: سمعتُ أبا بكر بن أبي شَيْبة يقول: كان اسم عبد الرحمن بن أبي بكر عبد العُزَّى، فسمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن، ويُكْنَى أبا محمد، وكان شَهِدَ فتحَ دمشق، فنفَّلَه عمرُ (2) ليلى بنتَ الجُودِيِّ مَلِكِ دمشق، وكان لها عاشقًا (3).
حافظ طلحہ بابر

احمد بن یعقوب ثقفی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبکر بن ابی شیبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا نام (زمانہ جاہلیت میں) عبد العزى تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا، ان کی کنیت ابو محمد تھی، وہ فتح دمشق میں حاضر ہوئے تھے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دمشق کے بادشاہ جودی کی صاحبزادی لیلیٰ کو انہیں بطورِ انعام عطا کیا تھا کیونکہ وہ آپ اس سے پیار کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6114
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6114] [ترقيم الشركة 6056]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظة "أخبرنا" سقطت من (ص) و (م)، وهي ثابتة في (ب). والمعمري: هو الحسن بن علي بن شبيب.
اہم نکتہ: لفظ "أخبرنا" نسخہ (ص) اور (م) سے ساقط ہے جبکہ نسخہ (ب) میں موجود ہے۔ المعمری سے مراد الحسن بن علی بن شبیب ہیں۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: فنفلته عمته، والتصويب من مصادر التخريج.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں عبارت "فنفلتہ عمتہ" (اسے اس کی پھوپھی نے نفل دیا) تحریف ہو گئی ہے، درست عبارت مراجعِ تخریج کے مطابق تصحیح شدہ متن میں موجود ہے۔
(3) قصة عبد الرحمن بن أبي بكر أخرجها مطولة ومختصرة سعيد بن منصور في "السنن" (2707)، وابن شبة في "تاريخ المدينة" 3/ 849، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 70/ 57 - 58 من طريق عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة.
حوالہ / مصدر: حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ سعید بن منصور نے "السنن" (2707) میں، ابن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (3/ 849) میں اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (70/ 57-58) میں عبد الرحمن بن ابی الزناد عن ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہ کے طریق سے مطول اور مختصر روایت کیا ہے۔
وأخرجها ابن عساكر 35/ 33 - 34، وابن الجوزي في "ذم الهوى" ص 655 من طريق عبد الرحمن بن أبي الزناد أيضًا، عن هشام بن عروة، عن أبيه: أن عمر بن الخطاب … فذكرها. ولم يذكر عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (35/ 33-34) اور ابن الجوزی نے "ذم الہویٰ" (ص 655) میں بھی عبد الرحمن بن ابی الزناد کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عروہ سے براہِ راست عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واقعے کے طور پر نقل کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" 4/ 414 - 415 عن زهير بن محمد المروزي. عن مصعب بن عبد الله الزبيري: أنَّ عبد الرحمن بن أبي بكر … إلى آخره.
حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (4/ 414-415) میں زہیر بن محمد المروزی عن مصعب بن عبد اللہ الزبیری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وستأتي قصته مطولة في الأثر الذي بعد هذا من طريق يحيى بن يحيى الغساني، عن عروة بن الزبير، أنَّ عبد الرحمن بن أبي بكر … فذكره، لكن فيها أنَّ الذي نفّلها إياه هو أبو بكر وليس عمر.
نوٹ / توضیح: ان کا قصہ اگلے اثر میں یحییٰ بن یحییٰ الغسانی عن عروہ بن زبیر کے طریق سے مفصل آئے گا، تاہم اس میں یہ ذکر ہے کہ نفل عطا کرنے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے نہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6114 سے ماخوذ ہے۔