حدیث نمبر: 6080
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا الفضل بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا النَّضر بن شُمَيل، أخبرنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبي بُرْدةَ قال: قال لي ابن عمر: أَتدري ما قال أبي لأبيك؟ قلتُ: لا، قال: قال أبي لأبيك: هل يَسرُّك أنَّ إسلامنا مع رسول الله ﷺ وهجرَتَنا معه وجهادَنا معه وعَمَلَنا معه بَرَدَ (1) لنا، وإنَّ كلَّ عملٍ عَمِلناه بعدَه نجونا منه كَفافًا رأسًا برأس؟ قال أبوك لأبي: لا والله، لقد جاهَدْنا بعدَ رسول الله ﷺ وصلَّينا وصُمنا وعَمِلْنا خيرًا كثيرًا، وإنا لنَرجو ذلك، قال: فقال أبي لأبيك: والذي نفسي بيدِه، لَوَدِدْتُ أَنه بَرَدَ لي، وإِنَّ كلَّ شيءٍ بعدَ ذلك نجونا منه رأسًا برأس، قال: قلتُ: إنَّ أباك خيرٌ من أبي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5967 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوبردہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد (عمر) نے تمہارے والد (ابوموسیٰ) سے کیا کہا تھا؟“ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: میرے والد نے تمہارے والد سے پوچھا تھا: ”کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمارا اسلام لانا، ہجرت کرنا، جہاد کرنا اور تمام اعمال ہمارے لیے محفوظ رہ جاتے اور اس کے بعد ہم نے جو بھی عمل کیا ہوتا اس سے ہم اس طرح نجات پا جاتے کہ نہ ہمیں ثواب ملتا اور نہ گناہ (یعنی برابر چھوٹ جاتے)؟“ تمہارے والد نے میرے والد سے کہا: ”نہیں اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سی بھلائیاں کیں، اور ہمیں (اللہ سے) اس کے اجر کی امید ہے“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس پر میرے والد نے تمہارے والد سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میری تو یہ خواہش ہے کہ وہ ابتدائی اعمال میرے لیے محفوظ رہ جاتے اور اس کے بعد کی ہر چیز سے میں برابر سرابر چھوٹ جاتا (تاکہ کوئی حساب نہ رہے)“، ابوبردہ کہتے ہیں کہ میں نے (ابن عمر سے) کہا: ”بے شک آپ کے والد میرے والد سے بہتر تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6080
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6080] [ترقيم الشركة 6022] [ترقيم العلميه 5967]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) برد، بفتح الباء الموحدة والراء، أي: ثبت وخلص لنا، يقال: بَرَدَ لي على الغريم حق، أي: ثبت. وفي رواية: خلص بدلٌ "برد". انظر "فتح الباري" 11/ 485.
نوٹ / توضیح: لفظ "بَرَدَ" (باء اور راء کے فتحہ کے ساتھ) کا معنی ہے "ثابت ہوا اور ہمارے لیے خالص ہو گیا"؛ جیسا کہ عربی میں کہا جاتا ہے کہ میرا حق قرض دار پر ثابت (بَرَدَ) ہو گیا۔ بعض روایات میں اس کی جگہ "خلص" کا لفظ بھی آیا ہے۔ (دیکھئے: فتح الباری 11/ 485)۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (3915) من طريق روح بن عبادة، عن عوف، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (3915) میں روح بن عبادہ عن عوف کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6080 سے ماخوذ ہے۔