أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببخارى، حَدَّثَنَا أبو خَليفة، حَدَّثَنَا محمد بن سلَّام الجُمَحي، عن أبي عُبيدةَ مَعْمَر بن المُثَنَّى قال: نُبَيشةُ بن عبد الله بن شَيْبان بن عتَّاب بن الحارث بن حُصَين بن الحارث بن عبد العُزَّى، وهو نُبيشةُ الخير، يُكْنَى أبا طَرِيف، نزل البصرة (1).
حافظ طلحہ بابر
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ سے روایت ہے کہ نبیشہ بن عبداللہ بن شیبان بن عتاب بن حارث، جنہیں ”نبیشہ الخیر“ کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوطریف تھی اور وہ بصرہ میں مقیم ہوئے تھے۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العدل، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، حَدَّثَنَا عيسى بن إبراهيم البِرَكي، حَدَّثَنَا المُعلّى بن راشد النَّبّال أبو اليَمَان، حدثتني أمُّ عاصم - وكانت أمَّ ولد سِنان بن سَلَمة بن المُحبَّق الهُذَلي - قالت: دَخَلَ علينا نُبيشةُ، وكان رسولُ الله ﷺ سمّاه نُبيشةَ الخَيرِ؛ دخل على رسول الله ﷺ وعندَه أُسارى، فقال: يا رسولَ الله، إما أن تَمُنَّ عليهم، وإما أن تُفادِيَهم؛ فقال رسولُ الله ﷺ: "أَمرتَ بخيرٍ، أنت نُبَيشةُ الخَيرِ" (2). ذكرُ مناقب أبي أيوب الأزديِّ، صحابيٍّ من الزُّهاد (3)
حافظ طلحہ بابر
ام عاصم سے روایت ہے، وہ سنان بن سلمہ بن محبق ہذلی کی ام ولد تھیں، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبیشہ تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام ”نبیشہ الخیر“ رکھا تھا؛ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ کے پاس کچھ قیدی موجود تھے، تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یا تو ان پر احسان فرما کر (بلا معاوضہ) چھوڑ دیں، یا ان سے فدیہ لے کر آزاد کر دیں“؛ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بھلائی کا مشورہ دیا ہے، تم نبیشہ الخیر (بھلائی والے نبیشہ) ہو۔“