المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ نُبَيْشَةِ الْخَيْرِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا نبییشہ الخیر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6060
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببخارى، حَدَّثَنَا أبو خَليفة، حَدَّثَنَا محمد بن سلَّام الجُمَحي، عن أبي عُبيدةَ مَعْمَر بن المُثَنَّى قال: نُبَيشةُ بن عبد الله بن شَيْبان بن عتَّاب بن الحارث بن حُصَين بن الحارث بن عبد العُزَّى، وهو نُبيشةُ الخير، يُكْنَى أبا طَرِيف، نزل البصرة (1).
حافظ طلحہ بابر
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ سے روایت ہے کہ نبیشہ بن عبداللہ بن شیبان بن عتاب بن حارث، جنہیں ”نبیشہ الخیر“ کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوطریف تھی اور وہ بصرہ میں مقیم ہوئے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وكذا ترجمه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 8/ 506 وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" 5/ 2702، وسماه خليفة في "طبقاته" ص 36 و 176: نبيشة بن عمرو. قلنا: والوجهان قيلا في اسمه، كما في "أسد الغابة" 4/ 534 و "الإصابة" 6/ 421.
اہم نکتہ: راوی کے نام کی تحقیق: ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (8/ 506) میں اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (5/ 2702) میں اسی طرح ذکر کیا ہے، جبکہ خلیفہ نے اپنی "طبقات" (ص 36، 176) میں انہیں "نُبیشہ بن عمرو" لکھا ہے۔
نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں کہ ان کے نام میں یہ دونوں صورتیں کہی گئی ہیں، جیسا کہ "اسد الغابہ" (4/ 534) اور "الاصابہ" (6/ 421) میں مذکور ہے۔
اہم نکتہ: راوی کے نام کی تحقیق: ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (8/ 506) میں اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (5/ 2702) میں اسی طرح ذکر کیا ہے، جبکہ خلیفہ نے اپنی "طبقات" (ص 36، 176) میں انہیں "نُبیشہ بن عمرو" لکھا ہے۔
نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں کہ ان کے نام میں یہ دونوں صورتیں کہی گئی ہیں، جیسا کہ "اسد الغابہ" (4/ 534) اور "الاصابہ" (6/ 421) میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6060 سے ماخوذ ہے۔