کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں سے تبرک حاصل کرنے کا بیان
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا مسلم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا يحيى بن العلاء، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي أيوب: أنه أَخذ عن لِحية رسول الله ﷺ شيئًا، فقال: "لا يكُنْ بك السُّوءُ يا أبا أيوب" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی داڑھی مبارک سے کوئی چیز (تنکا وغیرہ) ہٹائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ایوب! اللہ تم سے ہر قسم کی برائی (اور ناپسندیدہ چیز) کو دور رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الإمام، أخبرنا العبّاس بن الفضل الأسفاطي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن أسامة بن زيد، عن ابن شِهاب، عن إبراهيم بن عبد الله بن حُنين: أَنَّ عبدَ الله بن عبّاس والمِسْوَر بن مَخْرَمة اختلفا في المُحرِم يَغسِلُ رأسَه بالماءِ من غير جَنَابةٍ، فأرسَلاني إلى أبي أيوب الأنصاريِّ وهو في بعض مياه مكةَ أسألُه عن ذلك، فذَكَرَ الحديثَ بطوله (1). هذه فضيلةٌ لأبي أيوب، أنَّ ابنَ عبّاس والمِسْوَرَ يَرجِعان إليه في السؤال، وأظنُّ أنَّ الشيخين ﵄ قد خرَّجاه أو أحدُهما في كتاب الطهارة. ذكرُ مناقب عبد الله بن الطُّفيل بن سَخْبَرة ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5943 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5943 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابراہیمی بن عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہوا کہ کیا محرم حالتِ احرام میں جنابت کے بغیر (ٹھنڈک کے لیے) اپنا سر پانی سے دھو سکتا ہے؟ تو انہوں نے مجھے مکہ کے قریب کسی مقام پر موجود سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی۔
یہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ ابن عباس اور مسور جیسے جلیل القدر صحابہ کسی مسئلے میں ان کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور میرا گمان ہے کہ شیخین یا ان میں سے کسی ایک نے اسے کتاب الطہارت میں روایت کیا ہے۔
یہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ ابن عباس اور مسور جیسے جلیل القدر صحابہ کسی مسئلے میں ان کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور میرا گمان ہے کہ شیخین یا ان میں سے کسی ایک نے اسے کتاب الطہارت میں روایت کیا ہے۔