المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5979
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عُمر، قال: والحَكَم بن عمرو بن مُجدَّع بن حِذْيَم بن الحارث بن ثَعْلبة (2) بن مُلَيلِ بن ضَمْرة بن بَكر بن عبد مَناةَ بن كِنانة، وثعلبةُ أخو غِفار بن مُلَيل، صَحِبَ النبي ﷺ حتى قُبِض، ثم تحوّل إلى البصرة فنَزَلَها، فولّاه زيادُ بن أبي سفيان على خُرَاسان، فخرج إليها، ولم يَزَلْ على خُراسان حتى ماتَ بها سنةَ خمسين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا حکم بن عمرو بن مجدع رضی اللہ عنہ، غفار بن ملیل کے بھائی ثعلبہ کی اولاد میں سے تھے، آپ نبی کریم ﷺ کی وفات تک آپ ﷺ کی صحبت میں رہے، پھر بصرہ منتقل ہو گئے اور وہاں سکونت اختیار کی، پھر زیاد بن ابی سفیان نے انہیں خراسان کا گورنر مقرر کیا، وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سن 50 ہجری میں ان کا انتقال وہیں (خراسان میں) ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذلك جاء في نسخنا الخطية أنه في رواية محمد بن عمر الواقدي: ثعلبة، وهو قول ابن سعد كاتب الواقدي فيما حكاه عنه ابن ماكولا في "الإكمال" 2/ 119، لكن جاء في مطبوع "طبقات ابن سعد" 5/ 116 و 9/ 27 و 370: نُعيلة، بدل ثعلبة، فالله تعالى أعلم.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں بھی محمد بن عمر الواقدی کی روایت میں "ثعلبہ" ہی آیا ہے، اور یہی واقدی کے کاتب ابن سعد کا قول ہے (جیسا کہ ابن ماکولا نے "الاکمال" 2/ 119 میں ان سے نقل کیا ہے)۔ لیکن "طبقات ابن سعد" کے مطبوعہ نسخے (5/ 116، 9/ 27 اور 370) میں ثعلبہ کی جگہ "نُعیلہ" آیا ہے۔ واللہ اعلم۔
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں بھی محمد بن عمر الواقدی کی روایت میں "ثعلبہ" ہی آیا ہے، اور یہی واقدی کے کاتب ابن سعد کا قول ہے (جیسا کہ ابن ماکولا نے "الاکمال" 2/ 119 میں ان سے نقل کیا ہے)۔ لیکن "طبقات ابن سعد" کے مطبوعہ نسخے (5/ 116، 9/ 27 اور 370) میں ثعلبہ کی جگہ "نُعیلہ" آیا ہے۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5979 سے ماخوذ ہے۔