کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا زید بن عمرو کے لیے استغفار کرنا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن المَسعُودي، عن نُفَيل بن هشام بن سعيد بن زيد، عن أبيه: أنَّ جَدَّه سعيدَ بنَ زيد سألَ رسولَ الله ﷺ عن أبيه زيد بن عمرو بن نُفَيل، فقال: يا رسول الله، إنَّ أبي زيدَ بنَ عَمرو بن نُفَيل كان كما رأيتَ وكما بَلَغَكَ، ولو أدركَكَ لآمَنَ بك، فأَستغفِرُ له؟ قال: "نعم، فاستغفِرْ له؛ فإنه يجيءُ يومُ القيامةِ أُمَّةً وحدَهُ" فكان فيما ذَكَروا يَطلُبُ الدِّين، ومات وهو في طَلَبِه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5855 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5855 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
نفیل بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے والد زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں دریافت کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد زید بن عمرو ویسے ہی (موحد) تھے جیسا کہ آپ نے انہیں دیکھا اور جیسا کہ آپ تک ان کی خبر پہنچی، اگر وہ آپ کا زمانہ پا لیتے تو آپ پر ضرور ایمان لاتے، کیا میں ان کے لیے دعائے مغفرت کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان کے لیے مغفرت طلب کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن تنہا ایک امت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے“، اور لوگوں کے بیان کے مطابق وہ سچے دین کی تلاش میں تھے اور اسی جستجو میں ان کی موت واقع ہوئی۔
وحدثنا أبو العباس، حدثنا أحمد، حدثنا يونس، عن محمد بن إسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزُّبَير، أنَّ محمد بن عبد الله بن الحُصَين حدَّثه: أَنَّ عمر بن الخطاب وسعيد بن زيد قالا: يا رسول الله، نَستغفِرُ لزيدٍ؟ قال: "نعم، فاستَغفِرا له؛ فإنه يُبعَثُ أمّةً وحدَه" (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن جعفر بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم زید بن عمرو کے لیے دعائے مغفرت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو کیونکہ وہ تنہا ایک امت بنا کر اٹھائے جائیں گے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا أبو أسامة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل، قال: لقد رأيتُني وإنَّ عمرَ لَمُوثِقِي وأُمّي - يعني أمَّ سعيد بن زيد - يريدُني على الإسلام، ولو أنَّ أحُدًا انفَضَّ - أو ارفَضَّ - لكان حَقِيقًا بما فَعلتُم بعثمانَ (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5857 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5857 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اور میری ماں کو (یعنی میری اہلیہ کو جو عمر رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں) اسلام لانے کی وجہ سے (سختی سے) باندھ رکھا تھا، اور اگر (دین کی خاطر پہنچنے والے مصائب پر) احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتا تو وہ حق بجانب ہوتا، اس کے مقابلے میں جو تم لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔