کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اہلِ مدینہ کے بزرگوں میں شمار ہوتے تھے
حدثنا أبو بكر بن مُصلِح الفقيهُ بالرَّيّ، حدثنا محمود بن محمد الواسطي، حدثنا وَهْب بن بَقيّة، حدثنا خالدٌ، عن عطاء بن السائب، عن مُحارِب بن دِثار، حدثني ابن سعيد بن زيد، قال: بعث معاويةُ إلى مروانَ بن الحَكَم بالمدينة ليُبايعَ لابنِه يزيدَ، وسعيدُ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل غائبٌ، فجعل يَنتظِرُه، فقال رجل من أهل الشام لمروانَ: ما يَحبِسُك؟ قال: حتى يجيءَ سعيدُ بن زيد، فإنه كبيرُ أهل المدينة، فإذا بايَعَ بايَعَ الناسُ، قال: فأبطأَ سعيدُ بن زيد حتى أخذَ مروانُ البَيْعةَ، وأَمْسَكَ سعيدٌ عن البَيْعة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5853 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5853 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محارب بن دثار سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں مروان بن حکم کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے بیٹے یزید کے لیے بیعت لیں، اس وقت سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ مدینہ میں موجود نہ تھے، مروان ان کا انتظار کرنے لگا، اہل شام میں سے ایک شخص نے مروان سے کہا: آپ کو کس چیز نے روک رکھا ہے؟ مروان نے کہا: میں سعید بن زید کے آنے کا منتظر ہوں کیونکہ وہ اہل مدینہ کے بڑوں میں سے ہیں، جب وہ بیعت کریں گے تو سب لوگ بیعت کر لیں گے، راوی کہتے ہیں کہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے آنے میں دیر کر دی یہاں تک کہ مروان نے (باقی لوگوں سے) بیعت لے لی جبکہ سعید رضی اللہ عنہ نے بیعت سے گریز فرمایا۔
حدثني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا محمد بن عثمان بن كَرَامةَ، حدثنا أبو أسامة، عن عُبيد الله بن عمر، عن أبي عبد الغَفّار، عن عائشة بنت سعد بن أبي وقّاص، قالت: غَسَّل سعدُ سعيدَ بنَ زيد وحَنَّطَه، ثم أتى البيتَ فاغتَسَل، ثم قال: أمَا إني لم أغتسِلْ من غَسْلي إياهُ، ولكني اغتسلتُ من الحَرِّ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5854 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5854 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو غسل دیا اور انہیں خوشبو لگائی، پھر گھر آ کر غسل فرمایا اور کہا: ”آگاہ رہو! میں نے انہیں غسل دینے کی وجہ سے (بطورِ وجوب) غسل نہیں کیا بلکہ میں نے تپش اور گرمی کی وجہ سے غسل کیا ہے۔“