حدیث نمبر: 5966
حدثنا أبو بكر بن مُصلِح الفقيهُ بالرَّيّ، حدثنا محمود بن محمد الواسطي، حدثنا وَهْب بن بَقيّة، حدثنا خالدٌ، عن عطاء بن السائب، عن مُحارِب بن دِثار، حدثني ابن سعيد بن زيد، قال: بعث معاويةُ إلى مروانَ بن الحَكَم بالمدينة ليُبايعَ لابنِه يزيدَ، وسعيدُ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل غائبٌ، فجعل يَنتظِرُه، فقال رجل من أهل الشام لمروانَ: ما يَحبِسُك؟ قال: حتى يجيءَ سعيدُ بن زيد، فإنه كبيرُ أهل المدينة، فإذا بايَعَ بايَعَ الناسُ، قال: فأبطأَ سعيدُ بن زيد حتى أخذَ مروانُ البَيْعةَ، وأَمْسَكَ سعيدٌ عن البَيْعة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5853 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

محارب بن دثار سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں مروان بن حکم کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے بیٹے یزید کے لیے بیعت لیں، اس وقت سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ مدینہ میں موجود نہ تھے، مروان ان کا انتظار کرنے لگا، اہل شام میں سے ایک شخص نے مروان سے کہا: آپ کو کس چیز نے روک رکھا ہے؟ مروان نے کہا: میں سعید بن زید کے آنے کا منتظر ہوں کیونکہ وہ اہل مدینہ کے بڑوں میں سے ہیں، جب وہ بیعت کریں گے تو سب لوگ بیعت کر لیں گے، راوی کہتے ہیں کہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے آنے میں دیر کر دی یہاں تک کہ مروان نے (باقی لوگوں سے) بیعت لے لی جبکہ سعید رضی اللہ عنہ نے بیعت سے گریز فرمایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5966
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن ابن المبارك: هو عبد الله. وأخرجه الطبراني (341)
تخریج حدیث «إسناده حسن ابن المبارك: هو عبد الله. وأخرجه الطبراني (341)، وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (539) عن أحمد بن رشدين المصري، عن نُعيم بن حماد، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 5966] [ترقيم الشركة 5907] [ترقيم العلميه 5853]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين من أجل ابن سعيد بن زيد، ولسعيد من الولد أكثر من تسعةٍ ذكر تسعةً منهم البَلاذُريُّ في "أنساب الأشراف" 10/ 473، فلا يُدرى أيهم المقصود هنا، وروى عنه هذا الخبر تابعيٌّ آخر، فأمكن تحسين خبره، والله أعلم. خالد: هو ابن عبد الله الواسطي الطحان.
درجۂ حدیث: سعید بن زید کے بیٹے کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ سعید کے نو سے زیادہ بیٹے تھے (بلاذری نے "انساب الاشراف" 10/ 473 میں نو کا ذکر کیا ہے)، معلوم نہیں یہاں کون مراد ہے۔ تاہم اس خبر کو ان سے ایک اور تابعی نے بھی روایت کیا ہے، لہٰذا اس کی تحسین ممکن ہے۔ واللہ اعلم۔
فنی نکتہ / علّت: خالد سے مراد ابن عبداللہ الواسطی الطحان ہیں۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (226)، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (963)، والطبراني في "الكبير" (345)، وأبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (545)، وابن عساكر 21/ 88 من طرق عن وهب بن بقية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثاني" (226)، ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابة" (963)، طبرانی نے "المعجم الكبير" (345)، ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (545) اور ابن عساکر (21/ 88) نے وہب بن بقیہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "التاريخ الأوسط" 11/ 707 من طريق أبي عوانة الوضّاح اليشكُري، وابن عساكر 21/ 89 من طريق جرير بن عبد الحميد، كلاهما عن عطاء بن السائب به.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے "التاریخ الأوسط" (11/ 707) میں ابو عوانہ الوضاح الیشکری کے طریق سے؛ اور ابن عساکر (21/ 89) نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں عطاء بن السائب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5966 سے ماخوذ ہے۔