کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله الزُّبيري، قال: نافع بن عُتبة بن مالك بن أُهَيب ابن عبد مَناف بن زُهْرة، وأمُّه كِنَانيَّةٌ، واسمُها زينبُ بنت جابر.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے مروی ہے کہ سیدنا نافع بن عتبہ بن مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کی والدہ قبیلہ کنانہ سے تھیں اور ان کا نام زینب بنت جابر تھا۔
حدَّثَناه أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفةُ بن خَيّاط، قال: نافعُ بن عُتبة بن أبي وقَّاص، أمُّه زينب بنت خالد بن عُبيد بن سُوَيد بن جابر بن تَيْم بن عامر بن عوف بن الحارث بن عبد مَنَاة بن عَلِيّ بن كِنَانة، ويقال: أمُّه عاتِكةُ بنت عَوف أختُ عبد الرحمن بن عَوف (1).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی والدہ زینب بنت خالد بن عبید بن سوید بن جابر تھیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی والدہ عاتکہ بنت عوف تھیں جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عمر بن حفص، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا موسى بن عبد الملك بن عُمير، عن أبيه، عن جابر بن سَمُرَةَ، عن نافع بن عُتبة، قال: قَدِم ناسٌ من العَرب على رسولِ الله ﷺ يُسلِّمون عليه، عليهم الصُّوفُ، فقُمتُ فقلتُ: لأحُولَنّ بين هؤلاءِ وبين رسولِ الله ﷺ، ثم قلتُ في نفسي: هو نَجِيُّ القَومِ، ثم أبَتْ نفْسي إلَّا أن أقومَ إليه، قال: فسمعته يقول: "تَغْزُون جَزِيرَةَ العَرَب فيَفتَحُها اللهُ، ثم تَغْزُون فارسَ فيَفتَحُها اللهُ، ثم تَغْزُونَ الدَّجّالَ فيَفتَحُه اللهُ" (2). ذكرُ مناقب عبد الرحمن بن أزهَرَ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5822 - موسى بن عبد الملك واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5822 - موسى بن عبد الملك واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ بدوی لوگ صوف کے لباس پہنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں اٹھ کر ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان (بطورِ پردہ) کھڑا ہو گیا، پھر میں نے سوچا کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے رازدار (نئی) ہیں، لیکن پھر بھی میرا جی یہی چاہا کہ میں آپ کے قریب ہی رہوں، چنانچہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم جزیرہ نما عرب سے جنگ کرو گے تو اللہ اسے فتح کر دے گا، پھر تم فارس سے جنگ کرو گے تو اللہ اسے بھی فتح کر دے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے تو اللہ اسے (مغلوب کر کے) تم پر فتح عطا فرما دے گا۔“