کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تعظیماً سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سواری کا رکاب تھامنا
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذَانَ، حدثنا أبو هَمّام، حدثنا خالد بن حَيَّان، حدثنا علي بن عُروة الدمشقي، عن ابن جُرَيج، عن عمرو بن دينار: أنَّ ابنَ عباس وزيدَ بن ثابت شَهِدا جنازةً، فلما أرادَ زيدٌ أن يَركَب أخذ ابن عباس برِكَابِه، فقال: تَنَحَّ ابنَ أخي، فقال: لا (1)، هكذا يُصنَعُ بالعُلماءِ (2).
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما ایک جنازے میں شریک تھے، جب زید رضی اللہ عنہ نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی رکاب تھام لی، زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے بھتیجے! ہٹ جائیے“، انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں، علماء کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔“
أخبرنا محمد بن المُؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفَضْل بن محمد، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن علي بن زيد بن جُدْعانَ: أَنَّ ابنَ عباس لما دُفِنَ زيدُ بن ثابت حَثَا عليه التُّرابَ، ثم قال: هكذا يُدفَن العِلمُ (3).
حافظ طلحہ بابر
علی بن زید بن جدعان سے روایت ہے کہ جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان پر مٹی ڈالی اور پھر فرمایا: ”علم اسی طرح دفن ہوتا ہے۔“
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْلُ، أخبرنا علي بن عبد العزيز وأبو مُسلم، أنَّ حَجّاج بن مِنْهال حدَّثَهم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عمّار بن أبي عمّار، قال: لما مات زيدُ بن ثابت جَلَسْنا مع ابن عباس في ظِلِّ قَصْر، فقال: هكذا ذَهابُ العِلمِ، لقد دفن اليومَ عِلمٌ كثيرٌ (1). ذكرُ مناقب يَعلَى ابن مُنْيةَ ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن ابی عمار سے روایت ہے کہ جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ایک محل کے سائے میں بیٹھے تھے، تب انہوں نے فرمایا: ”علم اسی طرح رخصت ہوتا ہے، آج یقیناً بہت سا علم دفن ہو گیا ہے۔“