کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق مزید روایات
أخبرني محمد بن عبد الله الجَوهَري، أخبرنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا أبو هاشم زياد بن أيوب، حدثنا عَبّاد بن العَوّام، حدثنا الشَّيباني، عن الشَّعْبيِّ، قال: يؤخَذُ العِلمُ عن ستّة من أصحاب رسول الله ﷺ، فكان عمرُ وعبدُ الله وزيدٌ يُشبِهُ علمُهم بعضُهم بعضًا، فكان يَقتَبِسُ بعضُهم من بعضٍ، وكان عليٌّ وأُبَيٌّ والأشعريُّ يُشبِهُ عِلمُهم بعضُه بعضًا، ويَقتبِسُ بعضُهم من بعضٍ. قال: فقلت للشَّعبي: وكان الأشعريُّ إلى هؤلاء؟ قال: كان أحدَ الفُقهاء (1).
حافظ طلحہ بابر
شعبی سے روایت ہے کہ علم رسول اللہ ﷺ کے چھ صحابہ سے حاصل کیا جاتا ہے، سیدنا عمر، عبداللہ بن مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا علم ایک دوسرے کے مشابہ تھا اور وہ ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے، جبکہ سیدنا علی، ابی بن کعب اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کا علم ایک دوسرے سے ملتا جلتا تھا اور وہ ایک دوسرے سے فیض پاتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے پوچھا: کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی ان (بڑے علماء) میں شامل تھے؟ انہوں نے کہا: وہ جید فقہاء میں سے ایک تھے۔
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا أبو همّام، حدثنا ضَمْرةُ، قال: قال ابن شَوذَب وسمعتُه يذكُر قال: سمعتُ الصَّلتَ بن بَهْرَام ونحن في جِنازةٍ، فقال: حدّثني صاحبُ السَّرير أنه شَهِدَ جنازةَ زيد بن ثابت، فلما دُفِن وَقَعَ (2) ابن عباس على قبره وقال: هكذا ذَهابُ العِلم (3).
حافظ طلحہ بابر
صلت بن بہرام سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ جب انہیں دفن کر دیا گیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”علم اسی طرح رخصت ہو جاتا ہے۔“