کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی زمانے کے لوگوں سے شکایت
حدثنا أحمد بن زياد الفقيه الدامَغَاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو الأحوَص، حدثني صاحبٌ لنا، قال: جاء رجلٌ من مُرادٍ إلى أُويس القَرَني، فقال: السلامُ عليكم، قال: وعليكم، قال: كيف أنتُم يا أويس؟ قال: بحمدِ الله، قال: كيفَ الزمانُ عليكم؟ قال: لا تَسألْ، رجلٌ إذا أمسى لم يَرَ أنه يُصبح، وإذا أصبح لم يَرَ أنه يُمسي، يا أخا مُرادٍ، إنَّ الموتَ لم يُبقِ لمؤمن فَرَحًا، يا أخا مراد، إنَّ عِرفانَ المؤمن بحُقوق الله لم يُبق له فضّةً ولا ذَهَبًا، يا أخا مراد، إنَّ قيامَ المؤمن بأمرِ الله لم يُبقِ له صديقًا، والله إنا لنأمُرُهم بالمعروفِ وتنهاهم عن المنكر، فيتَّخذونا أعداءً، ويَجِدُون على ذلك من الفاسقين أعوانًا، حتى واللهِ لقد يَقذِفون بالعَظائم، وايْمُ الله لا يَمنعنُي ذلك أن أقولَ بالحقِّ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5724 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ایک مرادی شخص سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”السلام علیکم“، انہوں نے جواب دیا: ”وعلیکم“، اس نے پوچھا: ”اے اویس! آپ کیسے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی حمد ہے“، اس نے پوچھا: ”آپ کا زمانہ (حالات) کیسا گزر رہا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ نہ پوچھو، اس شخص کا حال کیا ہوگا جسے شام ہو تو یہ گمان نہ ہو کہ وہ صبح دیکھ پائے گا، اور جب صبح ہو تو اسے یقین نہ ہو کہ شام پائے گا، اے مرادی بھائی! بیشک موت کے تذکرے نے مومن کے لیے کوئی خوشی باقی نہیں چھوڑی، اے مرادی بھائی! مومن کا اللہ کے حقوق کو پہچان لینا اس کے پاس سونا چاندی جمع نہیں رہنے دیتا (یعنی وہ سب راہِ خدا میں دے دیتا ہے)، اے مرادی بھائی! مومن کا اللہ کے حکم پر سختی سے قائم رہنا اس کے لیے کوئی دوست باقی نہیں رہنے دیتا، اللہ کی قسم! جب ہم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں تو وہ ہمیں اپنا دشمن بنا لیتے ہیں، اور اس (مخالفت) میں انہیں فاسقوں کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اللہ کی قسم! وہ ہم پر بڑے بڑے (بہتان اور) الزامات لگاتے ہیں، لیکن اللہ کی قسم! یہ باتیں مجھے حق گوئی سے ہرگز نہیں روک سکتیں“۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5829
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة شيخ أبي الأحوص
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة شيخ أبي الأحوص ، واسم أبي الأحوص سَلّام بن سُليم - وقد سُمّي هذا الشيخ في بعض الروايات وُهَيبًا وقيّد في بعضها بابن أبي الشعثاء، وفي بعضها بابن سلامة، وعلى كلِّ حال فهو رجل مجهول لا يُدرى من هو. محمد بن أيوب: هو ابن الضُّرَيس البجلي، وأحمد ...» [ترقيم الرساله 5829] [ترقيم الشركة 5775] [ترقيم العلميه 5724]
أخبرني إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، أخبرنا أبو يعلى، حدثنا زُهير بن حرب، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابن جابر، حدثني عطاء الخُراساني، قال: ذَكَروا الحجَّ، فقالوا لأُويس القَرَني: أمَا حَجَجْت؟ قال: لا، قالوا: ولِمَ؟ قال: فسكتَ، فقال رجل منهم: عندي راحلةٌ، وقال آخَرُ: عندي نفقةٌ، وقال آخَرُ: عندي جَهَازٌ، فقَبلَه منهم وحجَّ به (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5725 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عطاء خراسانی سے مروی ہے کہ لوگوں نے حج کا ذکر کیا اور سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ نے حج نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں“، انہوں نے پوچھا: ”کیوں؟“ تو وہ خاموش رہے، پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ”میرے پاس سواری ہے (وہ آپ لے لیں)“، دوسرے نے کہا: ”میرے پاس زادِ راہ ہے“، اور تیسرے نے کہا: ”میرے پاس سامانِ سفر ہے“، چنانچہ انہوں نے ان کی یہ پیشکش قبول کر لی اور ان کے فراہم کردہ وسائل سے حج ادا کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5830
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات غير أنَّ فيه انقطاعًا
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير أنَّ فيه انقطاعًا، لأنَّ عطاء الخُراساني - وهو ابن أبي مسلم - لم يُدرك أُويسًا القَرَني. ابن جابر هو عبد الرحمن بن يزيد بن جابر الأزدي الدمشقي، وأبو يعلى: هو أحمد بن علي بن المثنى صاحب "المسند".» [ترقيم الرساله 5830] [ترقيم الشركة 5776] [ترقيم العلميه 5725]