حدیث نمبر: 5831
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم بن عبد الله بن معاوية السَّيّاري، شيخُ أهل الحقائق في عصره بخُراسان ﵀، قال: أخبرنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو بن المُوجِّه الفَزَاري، أخبرنا عَبْدانُ بن عثمان (2)، أخبرنا عبد الله بن الشُّمَيط ابن عَجْلان، عن أبيه، أنه سمع أسلَمَ العِجْليَّ يقول: حدثني أبو الضَّحّاك الجَرْمي، عن هَرِم بن حيَّان العَبْدي، قال: قدمتُ الكوفةَ، فلم يكن لي همٌّ إلَّا أُويسٌ القَرَني؛ أَطلبُه وأسألُ عنه، حتى سقَطتُ عليه جالسًا وحدَه على شاطئ الفُرات نصفَ النهارِ، يتوضّأ ويَغسِل ثوبَه، فعرفتُه بالنَّعتِ، فإذا رجلٌ لَحِمٌ، آدَمُ شديدُ الأُدْمةِ، أشعَرُ مَحلُوقُ الرأسِ - يعني ليس له جُمَّةٌ - كثُّ اللِّحيةِ، عليه إزارٌ من صُوفٍ ورداءٌ من صُوفٍ بغير حِذاء، كَرِيهُ الوجه، مهيبُ المَنظَرِ جدًّا، فسلّمتُ عليه، فردَّ علَيَّ ونَظَر إليَّ، فقلت (1): حيّاك اللهُ من رجلٍ، فمَدَدتُ يدي إليه لأصافِحَه، فأَبى أن يُصافِحَني، وقال: وأنتَ فحيّاك اللهُ، فقلت: رَحِمَك اللهُ يا أُويس، وغَفَر لك، كيف أنتَ رحِمَك الله؟ ثم خَنقَتْني العَبْرةُ من حُبّي إياه، ورِقّتي له لما رأيتُ من حالِه، أو رأيتُ من حالِه ما رأيتُ حتى بَكَيتُ وبكى، ثم قال: وأنت فرَحِمَك اللهُ يا هرِمَ بنَ حَيّان، كيف أنتَ يا أخي؟ مَن دلك علَيَّ؟ قال: قلتُ: اللهُ، قال: لا إله إلَّا الله ﴿سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا﴾، [فعَجِبتُ منه] (2) حين سمّاني، ولا والله ما كنتُ رأيتُه قطُّ، ولا رآني، ثم قلتُ: من أين عرفَتَني وعرفتَ اسمي واسمَ أبي؟ فوالله ما كنتُ رأيتُك قطُّ قبلَ هذا اليوم؟ قال: نبّأَني العليمُ الخَبيرُ، عرفَتْ رُوحِي رُوحَك حيثُ كلَّمتُ نفسي نفسَك، إنَّ الأرواح لها أنفُسٌ كأنفُس الأحياء، إنَّ المؤمنين يعرف بعضُهم بعضًا، ويَتحدّثون بروح الله وإن لم يَلتَقُوا، ويتعارفُوا وإن لم يتكلَّموا، وإنْ نأَتْ بهمُ الديارُ وتفرَّقت بهمُ المَنازِل، قال: قلت: حدِّثني عن رسول الله ﷺ بحديثٍ أحفَظْه عنك، قال: إني لم أُدرِك رسولَ الله ﷺ، ولم تكن لي معه صحبةٌ، ولقد رأيتُ رجالًا قد رأَوه، وقد بلغني من حديثه كما بَلَغكم، ولست أحبُّ أن أفتحَ هذا البابَ على نفسي؛ أن أكونَ محدِّثًا أو قاصًّا أو مُفتيًا، في النفس شُغْلٌ يا هَرِمَ بن حيّان. قال: فقلتُ: يا أخي، اقرأْ عليَّ آياتٍ من كِتاب الله أسمعهُنَّ منك، فإني أُحبُّك في الله حبًّا شديدًا، وادعُ بدَعَوات وأَوصِ بوصيةٍ أحفَظْها عنك، قال: فأخذ بيدي على شاطئ الفُرات، وقال: أعوذُ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم، قال: فشَهِقَ شَهْقةً، ثم بكى مكانَه، ثم قال: قال ربي جَلَّ ذكرُه، وأحقُّ القول قولُه، وأصدقُ الحديثِ حديثُه، وأحسنُ الكلام كلامُه: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (38) مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ حتى بلغ ﴿إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾ [الدخان: 38 - 42]، ثم شَهِقَ شَهْقَةٌ، ثم سكتَ، فنظرتُ إليه وأنا أحسبه قد غُشِي عليه، ثم قال: يا هَرمَ بنَ حيّان، مات أبوكَ وأوشكَ أن تموتَ، ومات أبو حيّان، فإما إلى الجنة وإما إلى النار، ومات آدمُ وماتت حوّاءُ يا ابن حيّان، ومات نُوحٌ وإبراهيمُ خليلُ الرحمن يا ابن حَيّان، ومات موسى نَجِيُّ الرحمن يا ابن حيّان، ومات داودُ خليفةُ الرحمن يا ابن حيّان، ومات محمدٌ رسولٌ الرحمن، ومات أبو بكر خليفةُ المسلمين يا ابن حيّان، ومات أخي وصفيّي وصديقي عمر بن الخطاب، ثم قال: واعُمَراه، رحم الله عُمَرَ، وعمرُ يومئذٍ حيٌّ، وذلك في آخر خلافتِه، قال: فقلت له: رحمك الله، إنَّ عمر بن الخطاب بعدُ حيٌّ، قال: بلى، إن ربي نَعاهُ إليَّ، إن كُنتَ تَفهَمُ فقد علمت ما قلتُ، وأنا وأنت في المَوتى، وكان قد كان، ثم صلَّى على النبيِّ ﷺ ودعا بدَعَواتٍ خِفافٍ. ثم قال: هذه وصيَّتي إليك يا هَرِمَ بنَ حيّان: كتابَ الله، وبقايا الصالحين من المسلمين، والصلاةَ على النبيّ ﷺ، ولقد نُعِيَت إليَّ نفسي ونفسُك، فعليك بذكر الموتِ، فلا يُفارقَنَّ قلبَك طَرْفةَ عَين، وأنذِرْ قومَك إذا رجعتَ إليهم، وانصَحْ أهلَ مِلّتِك جميعًا، واكدَحْ لنفسِك، وإيايَ وإياكَ أن تُفارقَ الجماعةَ فتُفارقَ دِينَك وأنت لا تعلَمُ، فتدخلَ النارَ يومَ القيامة. قال: ثم قال: اللهمَّ إن هذا يَزعُم أنه يُحِبُّني فيك، وزارني من أجلِك، اللهم عَرِّفني وجهَه في الجنة، وأدخِلْه عليَّ زائرًا في دارِك دارِ السلام، واحفَظْه ما دام في الدنيا حيثُما كان، وضُمّ عليه ضَيعَته، ورضِّه من الدنيا باليَسير، وما أَعطيتَه من الدنيا فيَسِّرْه له، واجعلْه لما تُعطيه من نِعمتِك من الشاكرين، واجْزِهِ خيرَ الجزاء. استَودعتُك الله يا هَرمَ بن حيّان، والسلام عليك ورحمةُ الله، ثم قال لي: لا أراكَ بعدَ اليوم رَحِمَك اللهُ، فإن أكره الشُّهرةَ، والوَحْدةُ أحبُّ إليَّ، لأني شديدُ الغَمِّ كثيرُ الهَمِّ ما دُمتُ مع هؤلاء الناس حيًّا في الدنيا، ولا تسألْ عنّي ولا تَطلُبْني، واعلم أنك مِنّي على بالٍ وإن لم أرَكَ ولم تَرَني، فاذكُرْني وادْعُ لى، فإني سأذكُرُك وأدعُو لك إن شاء الله، انطلِقْ هاهُنا حتى أخُذَ هاهُنا قال: فحَرَصتُ على أن أسيرَ معه ساعةً، فأبى عليَّ، ففارقته يَبكي وأبكي، قال: فجعلتُ أنظُرُ في قَفاهُ حتى دخل في بعض السِّكَك، فكم طلبتُه بعد ذلك وسألتُ عنه، فما وجدتُ أحدًا يُخبِرُني عنه بشيءٍ، فرَحِمَه اللهُ وغَفَر له، وما أنتْ عليَّ جُمعةٌ إلَّا وأنا أَراه في منامي مرةً أو مرتَين، أو كما قال (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5726 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ہرم بن حیان عبدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کوفہ آیا تو میرا واحد مقصد اویس قرنی کو تلاش کرنا اور ان کے متعلق پوچھنا تھا، یہاں تک کہ دوپہر کے وقت میں نے انہیں دریائے فرات کے کنارے اکیلا بیٹھا پایا، وہ وضو کر رہے تھے اور اپنا کپڑا دھو رہے تھے، میں نے ان کے حلیہ مبارک سے انہیں پہچان لیا، وہ ایک بھرپور جسم والے، گہرے سانولے رنگ کے، کثیر بالوں والے، منڈے ہوئے سر والے، گھنی داڑھی والے، اونی تہبند اور اونی چادر اوڑھے ہوئے اور بغیر جوتوں کے تھے، ان کا چہرہ رعب دار اور منظر انتہائی ہیبت ناک تھا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور میری طرف دیکھا، میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، اور میں نے مصافحہ کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا: ”اور اللہ تمہیں بھی سلامت رکھے۔“ میں نے عرض کی: اے اویس! اللہ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کی مغفرت کرے، آپ کیسے ہیں؟ پھر ان کے لیے میری محبت اور ان کی حالت دیکھ کر میری رقت کی وجہ سے میرا گلا بھر آیا اور میں رونے لگا تو وہ بھی رونے لگے، پھر انہوں نے فرمایا: ”اور اے ہرم بن حیان! اللہ تم پر بھی رحم فرمائے، اے میرے بھائی تم کیسے ہو؟ تمہیں میرا پتا کس نے بتایا؟“ میں نے عرض کی: اللہ نے، انہوں نے کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ﴿سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا﴾» [سورة الإسراء: 108]۔ مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ انہوں نے میرا نام لیا حالانکہ اللہ کی قسم میں نے انہیں پہلے کبھی دیکھا تھا نہ انہوں نے مجھے، پھر میں نے پوچھا: آپ نے مجھے اور میرے والد کا نام کیسے پہچان لیا حالانکہ آج سے پہلے میں آپ سے کبھی نہیں ملا؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس اللہ نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے، میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا جب میری جان نے تمہاری جان سے کلام کیا، بیشک روحوں کی بھی اپنی جانیں ہوتی ہیں جیسے زندوں کی، بیشک مومنین ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں اور اللہ کی عطا کردہ روح کے ذریعے ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں اگرچہ ان کی ملاقات نہ ہوئی ہو، اور وہ ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں اگرچہ انہوں نے کلام نہ کیا ہو، چاہے ان کے شہر دور ہوں اور ان کی منزلیں جدا جدا ہوں۔“ میں نے عرض کی: مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنائیں جو میں آپ سے یاد کر لوں، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ تو پایا مگر مجھے ان کی صحبت میسر نہ ہو سکی، البتہ میں نے ان مردوں (صحابہ) کو دیکھا ہے جنہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تھا، اور آپ کی احادیث مجھ تک ویسے ہی پہنچی ہیں جیسے آپ لوگوں تک پہنچی ہیں، اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے اوپر یہ دروازہ کھولوں کہ میں محدث، قصہ گو یا مفتی بن جاؤں، کیونکہ اے ہرم بن حیان! میرے اپنے نفس کے کام بہت ہیں۔“ میں نے عرض کی: اے میرے بھائی! مجھے اللہ کی کتاب میں سے کچھ آیات سنائیں، میں آپ سے انہیں سننا چاہتا ہوں کیونکہ میں آپ سے اللہ کی رضا کے لیے شدید محبت کرتا ہوں، اور میرے لیے کچھ دعائیں کریں اور مجھے ایسی وصیت کریں جو میں آپ سے یاد رکھوں، تو انہوں نے دریائے فرات کے کنارے میرا ہاتھ تھام لیا اور کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» راوی کہتے ہیں: انہوں نے ایک گہری سسکی لی اور وہیں رونے لگے، پھر فرمایا: میرے رب کا ذکر بلند ہے، اسی کا قول برحق، اسی کی حدیث سچی اور اسی کا کلام سب سے حسین ہے: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ * مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے ﴿إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾ [سورة الدخان: 38 - 42]، پھر انہوں نے ایک گہری سسکی لی اور خاموش ہو گئے، میں نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے گمان ہوا کہ شاید وہ بے ہوش ہو گئے ہیں، پھر انہوں نے فرمایا: ”اے ہرم بن حیان! تمہارے والد فوت ہو گئے اور تم بھی مرنے کے قریب ہو، اور حیان (تمہارے دادا) بھی فوت ہو گئے، اب ٹھکانہ یا تو جنت ہے یا دوزخ، اے ابن حیان! آدم فوت ہو گئے، حوا فوت ہو گئیں، نوح اور اللہ کے خلیل ابراہیم فوت ہو گئے، اللہ سے کلام کرنے والے موسیٰ فوت ہو گئے، اللہ کے خلیفہ داؤد فوت ہو گئے، رحمن کے رسول محمد (ﷺ) فوت ہو گئے اور مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر بھی فوت ہو گئے اے ابن حیان! اور میرے بھائی، مخلص ساتھی اور دوست عمر بن خطاب بھی فوت ہو گئے۔“ پھر پکارے: ”ہائے عمر! اللہ عمر پر رحم کرے۔“ جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ تھے اور یہ ان کی خلافت کا آخری دور تھا، میں نے ان سے عرض کی: اللہ آپ پر رحم کرے، عمر بن خطاب تو ابھی زندہ ہیں، انہوں نے فرمایا: ”کیوں نہیں، بیشک میرے رب نے ان کی موت کی خبر مجھے دے دی ہے، اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو جان لو جو میں نے کہا ہے، اور میں اور تم بھی مردوں میں شامل ہیں (اور یہ فیصلہ ہو چکا ہے)۔“ پھر انہوں نے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا اور مختصر دعائیں کیں، پھر فرمایا: ”اے ہرم بن حیان! یہ تمہارے لیے میری وصیت ہے: اللہ کی کتاب کو لازم پکڑنا، مسلمانوں کے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، اور نبی ﷺ پر درود بھیجتے رہنا، اور مجھے میری اور تمہاری موت کی خبر دے دی گئی ہے، پس موت کی یاد کو لازم پکڑو، یہ تمہارے دل سے پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی جدا نہ ہو، اور جب اپنی قوم کے پاس واپس جاؤ تو انہیں (آخرت سے) ڈراؤ، اور اپنے تمام ہم مذہب لوگوں کو نصیحت کرو، اور اپنے نفس کے لیے مشقت کرو، اور خبردار! کبھی جماعت سے جدا نہ ہونا ورنہ تم اپنے دین سے جدا ہو جاؤ گے اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا اور قیامت کے دن آگ میں داخل ہو جاؤ گے۔“ پھر انہوں نے دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّنِي فِيكَ، وَزَارَنِي مِنْ أَجْلِكَ، اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ، وَأَدْخِلْهُ عَلَيَّ زَائِرًا فِي دَارِكَ دَارِ السَّلَامِ، وَاحْفَظْهُ مَا دَامَ فِي الدُّنْيَا حَيْثُمَا كَانَ، وَضُمَّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَرَضِّهِ مِنَ الدُّنْيَا بِالْيَسِيرِ، وَمَا أَعْطَيْتَهُ مِنَ الدُّنْيَا فَيَسِّرْهُ لَهُ، وَاجْعَلْهُ لِمَا تُعْطِيهِ مِنْ نِعْمَتِكَ مِنَ الشَّاكِرِينَ، وَاجْزِهِ خَيْرَ الْجَزَاءِ.» اے ہرم بن حیان! میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، پھر مجھ سے فرمایا: ”آج کے بعد میں تمہیں نہیں دیکھوں گا، اللہ تم پر رحم کرے، کیونکہ میں شہرت کو ناپسند کرتا ہوں اور تنہائی مجھے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ جب تک میں اس دنیا میں ان لوگوں کے درمیان زندہ ہوں میں شدید مغموم اور کثیر فکر مند رہتا ہوں، اب میرے بارے میں نہ پوچھنا اور نہ مجھے تلاش کرنا، اور یہ جان لو کہ تم میرے خیال میں رہو گے اگرچہ میں تمہیں نہ دیکھوں اور نہ تم مجھے دیکھو، بس مجھے یاد رکھنا اور میرے لیے دعا کرنا کیونکہ میں بھی ان شاء اللہ تمہیں یاد رکھوں گا اور تمہارے لیے دعا کروں گا، تم اس طرف چلے جاؤ اور میں اس طرف جاتا ہوں۔“ ہرم کہتے ہیں: میں نے بہت کوشش کی کہ ایک گھڑی ان کے ساتھ چلوں مگر انہوں نے انکار کر دیا، میں ان سے جدا ہوا جبکہ وہ بھی رو رہے تھے اور میں بھی، میں ان کی پیٹھ کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ گلیوں میں اوجھل ہو گئے، اس کے بعد میں نے انہیں کتنا ہی تلاش کیا اور ان کے بارے میں کتنا پوچھا مگر مجھے کوئی ایسا نہ ملا جو ان کی خبر دے سکے، اللہ ان پر رحم کرے اور ان کی مغفرت فرمائے، اب مجھ پر کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرتا مگر میں انہیں خواب میں ایک یا دو بار ضرور دیکھتا ہوں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5831
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5831] [ترقيم الشركة 5777] [ترقيم العلميه 5726]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) زاد بعده في "إتحاف المهرة" لابن حجر (23905): أخبرنا عبد الله، هو ابن المبارك.
نوٹ / توضیح: ابن حجر نے "إتحاف المهرة" (23905) میں اس کے بعد یہ اضافہ کیا ہے: "ہمیں عبداللہ نے خبر دی"، اور عبداللہ سے مراد ابن مبارک ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5831 سے ماخوذ ہے۔