حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا شَريك، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: لما كان يومُ صِفِّين نادى مُنادي من أصحاب معاوية أصحابَ عليٍّ: أفيكُم أُويسٌ القَرَني؟ قالوا: نعم، فضرب دابّتَه حتى دخل معهم، ثم قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "خيرُ التابعينَ أُوَيسٌ القَرَني" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5717 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5717 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جنگ صفین کے دن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ایک پکارنے والے نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پکارا: ”کیا تم میں اویس قرنی موجود ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں“، تو اس شخص نے اپنی سواری کو مہمیز لگائی یہاں تک کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گیا، پھر اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تابعین میں سب سے بہتر اویس قرنی ہیں۔“
أخبرني أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوح المدائني، حدثني عُبيد الله بن محمد العَيْشي، حدثني إسماعيل بن عمرو البَجَلي، عن حِبّان بن علي العَنَزِي، عن سعد بن طَرِيف، عن الأصبَغ بن نُباتة، قال: شهدتُ عليًّا يومَ صِفّين، وهو يقول: من يُبايعُني على الموت - أو قال: على القَتل - فبايعَه تسعٌ وتسعون، قال: فقال: أين التَّمّامُ؟ أين الذي وُعِدتُ به؟ قال: فجاء رجلٌ عليه أطمارُ صُوفٍ مَحلوقُ الرأس، فبايعَه على الموت والقَتْل، قال: فقيل: هذا أُوَيسٌ القَرَني، فما زال يحاربُ بين يدَيه حتى قُتِل ﵁ (2). قال الحاكم: وقد صحتِ الروايةُ بذلك عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيف
حافظ طلحہ بابر
اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ میں جنگ صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”مجھ سے موت پر - یا فرمایا: قتل ہونے پر - کون بیعت کرتا ہے؟“ تو ننانوے افراد نے بیعت کر لی، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تکمیل کرنے والا کہاں ہے؟ وہ کہاں ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص آیا جس نے اون کے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کا سر منڈا ہوا تھا، اس نے آپ سے موت اور قتل ہونے پر بیعت کر لی، تو کہا گیا کہ یہ اویس قرنی ہیں، چنانچہ وہ آپ کے سامنے مسلسل لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اس بارے میں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے صحیح روایت موجود ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اس بارے میں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے صحیح روایت موجود ہے۔