المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
خَيْرُ التَّابِعِينَ أُوَيْسٌ الْقَرْنِيُّ باب: تابعین میں سب سے بہتر اویس قرنی ہیں
أخبرني أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوح المدائني، حدثني عُبيد الله بن محمد العَيْشي، حدثني إسماعيل بن عمرو البَجَلي، عن حِبّان بن علي العَنَزِي، عن سعد بن طَرِيف، عن الأصبَغ بن نُباتة، قال: شهدتُ عليًّا يومَ صِفّين، وهو يقول: من يُبايعُني على الموت - أو قال: على القَتل - فبايعَه تسعٌ وتسعون، قال: فقال: أين التَّمّامُ؟ أين الذي وُعِدتُ به؟ قال: فجاء رجلٌ عليه أطمارُ صُوفٍ مَحلوقُ الرأس، فبايعَه على الموت والقَتْل، قال: فقيل: هذا أُوَيسٌ القَرَني، فما زال يحاربُ بين يدَيه حتى قُتِل ﵁ (2). قال الحاكم: وقد صحتِ الروايةُ بذلك عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيفاصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ میں جنگ صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”مجھ سے موت پر - یا فرمایا: قتل ہونے پر - کون بیعت کرتا ہے؟“ تو ننانوے افراد نے بیعت کر لی، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تکمیل کرنے والا کہاں ہے؟ وہ کہاں ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص آیا جس نے اون کے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کا سر منڈا ہوا تھا، اس نے آپ سے موت اور قتل ہونے پر بیعت کر لی، تو کہا گیا کہ یہ اویس قرنی ہیں، چنانچہ وہ آپ کے سامنے مسلسل لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اس بارے میں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے صحیح روایت موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند یکسر تباہ حال (تالف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں اصبغ بن نباتہ اور سعد بن طریف "متروک" (چھوڑے ہوئے) راوی ہیں۔ اسماعیل بن عمرو البجلی اور حبان بن علی العنزی کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن یہ دونوں بھی ضعف (کمزوری) کے زیادہ قریب ہیں۔ ذہبی نے بھی "تلخیص" میں اس سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن العدیم نے "بُغية الطلب في تاريخ حلب" (1/ 312) میں محمد بن عیسیٰ الانصاری (ابن السکن الواسطی) کے واسطے سے عبیداللہ بن محمد التیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔