کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ہر بیماری کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی پڑھی ہوئی رُقیہ
فإنَّ أبا عليّ الحافظ أخبرني، قال: وحدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أبو موسى، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن الأعمش، عن أبي عمّار، عن عمرو بن شُرَحْبيلَ، عن رجلٍ من أصحاب النبي ﷺ نحوه (1).
حافظ طلحہ بابر
نبی کریم ﷺ کے ایک اور صحابی سے اسی طرح کی روایت مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمار (کے رگ و ریشے اور) ہڈیوں کے جوڑوں تک ایمان بھرا ہوا ہے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أسدُ بن موسى، حدثنا فُضَيل بن مَرزُوق، عن مَيسَرة بن حَبيب، عن المِنْهال بن عَمرو، عن محمد بن علي ابن الحنَفِيّة، عن عمار بن ياسر: أنه دخل على رسول الله ﷺ وهو يُوعَكُ، فقال له رسول الله ﷺ: "ألا أُعلِّمُك رُقْيةً رَقَاني بها جبريلُ؟ " قلت: بلى يا رسولَ الله، قال: فعَلَّمه: "باسم الله أَرقِيكَ، واللهُ يَشفِيكَ، من كلِّ داءٍ يُؤذِيك. خُذْها فلتَهنِيكَ (2) " (3). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5681 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5681 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
محمد بن علی ابن الحنفیہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ کو بخار کی شدت تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھاؤں جو جبریل (علیہ السلام) نے مجھے دم کرنے کے لیے سکھائی تھی؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی: «بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ. خُذْهَا فَلْتَهْنِيكَ» ”اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اور اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے شفا دے گا جو تمہیں تکلیف پہنچاتی ہے، اسے لے لو یہ تمہارے لیے خوشگوار (باعثِ شفا) ہو“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن مَعين، حدثنا إسماعيل بن مُجالد، عن بَيَانٍ، عن وَبَرَة، عن همّام بن الحارث، عن عمّار بن ياسر، قال: رأيتُ النبيَّ ﷺ وما معه إلَّا خمسةُ أعبُدٍ وامرأتانِ وأبو بكر (1). صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو (اس حال میں) دیکھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ (اسلام کے ابتدائی دور میں) صرف پانچ غلام، دو عورتیں اور سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہم) تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔