کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شیطان سے پناہ عطا فرمائی
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن حَكيم (3)، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن خَيثَمة بن أبي سَبْرة الجُعْفي، قال: أتيتُ المدينة، فسألتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّر لي أبا هُريرة، فجلستُ إليه، قلتُ: إني سألتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّر لي أبا هريرة، فقال لي: ممَّن أنتَ؟ فقلت: من أرض الكُوفة، جئتُ ألتَمِسُ العلمَ والخيرَ، فقال: أليس فيكم سعدُ بنُ مالك مُجابُ الدَّعوة، وعبدُ الله بن مسعود صاحبُ طَهُور رسولِ الله ﷺ ونَعلَيه، وحذيفةُ بنُ اليَمَان صاحبُ سِرِّ رسول الله ﷺ، وعمارُ بنُ ياسر الذي أجارَه اللهُ من الشيطان على لِسان نَبيِّه ﷺ، وسلمانُ صاحبُ الكِتابَين، قال قَتَادة: والكتابان: الإنجيلُ والفُرقان (1). صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5679 - الحديث صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5679 - الحديث صحيح
حافظ طلحہ بابر
خیثمہ بن ابی سبرہ جعفی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین عطا فرمائے، تو اللہ نے میرے لیے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو میسر فرما دیا، میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: میں نے اللہ سے نیک ساتھی کی دعا کی تھی تو اس نے مجھے آپ سے ملوا دیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: کوفہ کی سرزمین سے، میں علم اور خیر کی تلاش میں آیا ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہارے درمیان سیدنا سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) نہیں ہیں جن کی دعا قبول ہوتی ہے، اور عبداللہ بن مسعود جو رسول اللہ ﷺ کے وضو کے پانی اور نعلین مبارک کے نگران تھے، اور حذیفہ بن یمان جو رسول اللہ ﷺ کے رازدار تھے، اور عمار بن یاسر جنہیں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبانِ مبارک سے شیطان سے پناہ (امان) عطا فرمائی تھی، اور سلمان (فارسی) جو دو کتابوں کے عالم تھے؟“ قتادہ کہتے ہیں کہ دو کتابوں سے مراد انجیل اور قرآن مجید (فرقان) ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو عليّ الحافظ وهارون بن أحمد الجُرْجاني، قالا: حدثنا علي بن الحسن بن سَلْم الحافظ الأصبَهاني، حدثنا محمد بن أبي يعقوب، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن الأعمش، عن أبي عمّار، عن عمرو بن شُرَحْبيلَ، عن عبد الله، أنَّ النبي ﷺ قال: "مُلِئَ عمارٌ إيمانًا إلى مُشَاشِهِ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، إن كان محمد بن أبي يعقوب حفظه عن عبد الرحمن بن مَهْدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5680 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، إن كان محمد بن أبي يعقوب حفظه عن عبد الرحمن بن مَهْدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5680 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عمار (کے رگ و ریشے اور) ہڈیوں کے جوڑوں تک ایمان بھرا ہوا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگر محمد بن ابی یعقوب نے اسے عبدالرحمن بن مہدی سے (صحیح طرح) محفوظ رکھا ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگر محمد بن ابی یعقوب نے اسے عبدالرحمن بن مہدی سے (صحیح طرح) محفوظ رکھا ہو۔