حدیث نمبر: 5784
أخبرني أبو عليّ الحافظ وهارون بن أحمد الجُرْجاني، قالا: حدثنا علي بن الحسن بن سَلْم الحافظ الأصبَهاني، حدثنا محمد بن أبي يعقوب، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن الأعمش، عن أبي عمّار، عن عمرو بن شُرَحْبيلَ، عن عبد الله، أنَّ النبي ﷺ قال: "مُلِئَ عمارٌ إيمانًا إلى مُشَاشِهِ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، إن كان محمد بن أبي يعقوب حفظه عن عبد الرحمن بن مَهْدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5680 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عمار (کے رگ و ریشے اور) ہڈیوں کے جوڑوں تک ایمان بھرا ہوا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگر محمد بن ابی یعقوب نے اسے عبدالرحمن بن مہدی سے (صحیح طرح) محفوظ رکھا ہو۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5784
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن أبي يعقوب: هو محمد بن إسحاق بن منصور الكِرْماني، وسفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مِهْران، وأبو عمار: هو عَرِيب بن حُميد الهَمْداني، وعبد الله: هو ابن مسعود. والخلاف الذي أشار إليه المصنف في تعيين الصحابي لا يضر بصحة الحديث، فالصحابة كلهم عَدْلٌ، وإن كان الأصح ...» [ترقيم الرساله 5784] [ترقيم الشركة 5730] [ترقيم العلميه 5680]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. محمد بن أبي يعقوب: هو محمد بن إسحاق بن منصور الكِرْماني، وسفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مِهْران، وأبو عمار: هو عَرِيب بن حُميد الهَمْداني، وعبد الله: هو ابن مسعود. والخلاف الذي أشار إليه المصنف في تعيين الصحابي لا يضر بصحة الحديث، فالصحابة كلهم عَدْلٌ، وإن كان الأصح فيه أنه عن رجل من الصحابة غير معيَّن. وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن ابی یعقوب سے مراد محمد بن اسحاق بن منصور الکرمانی، سفیان سے مراد ثوری، اعمش سے مراد سلیمان بن مہران، ابو عمار سے مراد عریب بن حمید الہمدانی، اور عبداللہ سے مراد ابن مسعود ہیں۔ مصنف نے صحابی کی تعیین میں جس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ حدیث کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ تمام صحابہ "عادل" ہیں۔ اگرچہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ "ایک غیر متعین صحابی" سے مروی ہے۔ اگلی روایت بھی دیکھیں۔
وقد رواه وكيع عن سفيان الثوري عند ابن أبي شيبة 11/ 22 و 12/ 118 وغيره، فأرسله، لم يذكر ابن مسعود ولا غيره، ووصلُه محفوظٌ، فقد تابع عبدَ الرحمن بَن مهدي عليه أبو نُعيم الفضل بن دكين عند أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (7269) وغيره. وفي الباب عن علي بن أبي طالب تقدَّم تخريجه برقم (5766)، وإسناده حسنٌ.
فنی نکتہ / علّت: اسے وکیع نے سفیان ثوری سے ابن ابی شیبہ (11/ 22 اور 12/ 118 وغیرہ) کے ہاں "مرسل" روایت کیا ہے، یعنی ابن مسعود یا کسی اور کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن اس کا "موصول" ہونا ہی محفوظ (صحیح) ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن مہدی کی متابعت ابو نعیم فضل بن دکین نے کی ہے جو ابو نعیم کی "معرفة الصحابة" (7269) وغیرہ میں موجود ہے۔
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علی بن ابی طالب سے بھی روایت ہے جس کی تخریج نمبر (5766) پر گزر چکی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5784 سے ماخوذ ہے۔