کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: غزوۂ یمامہ میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان
قال ابن عُمر: وحدثني عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: رأيتُ عمّار بن ياسر يومَ اليَمَامة على صَخْرةٍ، وقد أشرفَ يَصيحُ: يا معشر المسلمين، أمِن الجنّة تَفِرُّون؟! أنا عمّار بن ياسر، أمِن الجنَّةِ تَفِرُّون؟! أنا عمّار بن ياسر، هَلُمَّ إليّ، وأنا انظر إلى أُذُنِه قد قُطِعت فهي تَذَبْذَبُ، وهو يقاتلُ أشدَّ القتال (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے جنگ یمامہ کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک چٹان پر دیکھا، وہ بلندی سے پکار رہے تھے: ”اے گروہِ مسلمین! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں، کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں، میری طرف آؤ“، میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا ایک کان کٹ چکا تھا اور وہ لٹک رہا تھا جبکہ وہ انتہائی سخت قتال کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5758
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5758] [ترقيم الشركة 5704]
قال ابن عمرُ: وحدثني عبد الله بن أبي عُبيدة، عن أبيه، عن لُؤلؤة مَولاةِ أمِّ الحَكَم ابنةِ عمار بن ياسر، قالت: لما كان اليومُ الذي قُتل فيه عمّار بنُ ياسِر والرايةُ يَحملُها أبو هاشم بن عُتبة، وقد قُتل أصحابُ عليٍّ ذلكَ اليومَ حتى كان العصرُ، ثم تَقدَّم عمّار بن ياسر ورأى أبا هاشم يَقْدُمُه، وقد جَنَحَتِ الشمسُ الغُروب، ومع عَمّار ضَيْحٌ من لَبَنٍ يَنتظِرُ وُجُوبَ الشمس أن يُفطِر، فقال حين وَجَبَت الشمسُ وشَرِبَ الضَّيْحَ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "آخِرُ زَادِك من الدنيا ضَيْحٌ مِن لَبَنٍ"، قال: ثم اقتَربَ فقاتَلَ حتى قُتِل، وهو ابن أربعٍ وتِسعين سنةً (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام حکم کی لونڈی لؤلؤہ سے روایت ہے کہ جس دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن جھنڈا ابو ہاشم بن عتبہ نے تھام رکھا تھا، اس دن عصر تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت سے ساتھی شہید ہو چکے تھے، پھر سیدنا عمار آگے بڑھے اور دیکھا کہ ابو ہاشم ان سے بھی آگے ہیں، اس وقت سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ (ضیح) تھا اور وہ روزہ افطار کرنے کے لیے سورج ڈوبنے کا انتظار کر رہے تھے، چنانچہ جیسے ہی سورج غروب ہوا انہوں نے وہ دودھ پیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «آخِرُ زَادِكَ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحٌ مِنْ لَبَنٍ» ”دنیا میں تمہارا آخری زادِ راہ دودھ کا ایک گھونٹ ہوگا“، راویہ کہتی ہیں: پھر وہ آگے بڑھے اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے، اس وقت ان کی عمر چورانوے برس تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5759
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5759] [ترقيم الشركة 5705]