المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
شَجَاعَةُ عَمَّارٍ فِي غَزْوَةِ الْيَمَامَةِ باب: غزوۂ یمامہ میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان
قال ابن عمرُ: وحدثني عبد الله بن أبي عُبيدة، عن أبيه، عن لُؤلؤة مَولاةِ أمِّ الحَكَم ابنةِ عمار بن ياسر، قالت: لما كان اليومُ الذي قُتل فيه عمّار بنُ ياسِر والرايةُ يَحملُها أبو هاشم بن عُتبة، وقد قُتل أصحابُ عليٍّ ذلكَ اليومَ حتى كان العصرُ، ثم تَقدَّم عمّار بن ياسر ورأى أبا هاشم يَقْدُمُه، وقد جَنَحَتِ الشمسُ الغُروب، ومع عَمّار ضَيْحٌ من لَبَنٍ يَنتظِرُ وُجُوبَ الشمس أن يُفطِر، فقال حين وَجَبَت الشمسُ وشَرِبَ الضَّيْحَ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "آخِرُ زَادِك من الدنيا ضَيْحٌ مِن لَبَنٍ"، قال: ثم اقتَربَ فقاتَلَ حتى قُتِل، وهو ابن أربعٍ وتِسعين سنةً (1).
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام حکم کی لونڈی لؤلؤہ سے روایت ہے کہ جس دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن جھنڈا ابو ہاشم بن عتبہ نے تھام رکھا تھا، اس دن عصر تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت سے ساتھی شہید ہو چکے تھے، پھر سیدنا عمار آگے بڑھے اور دیکھا کہ ابو ہاشم ان سے بھی آگے ہیں، اس وقت سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ (ضیح) تھا اور وہ روزہ افطار کرنے کے لیے سورج ڈوبنے کا انتظار کر رہے تھے، چنانچہ جیسے ہی سورج غروب ہوا انہوں نے وہ دودھ پیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «آخِرُ زَادِكَ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحٌ مِنْ لَبَنٍ» ”دنیا میں تمہارا آخری زادِ راہ دودھ کا ایک گھونٹ ہوگا“، راویہ کہتی ہیں: پھر وہ آگے بڑھے اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے، اس وقت ان کی عمر چورانوے برس تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (3/ 171-172) نے محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: لیکن وہاں یہ الفاظ ہیں کہ "جھنڈا ہاشم بن عتبہ اٹھائے ہوئے تھے"، اور یہی بات درست ہے جیسا کہ آگے نمبر (5792) اور (5796) میں آئے گا۔
وللمرفوع منه شاهد من رواية إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف سيأتي عند المصنف برقم (5772) وإسناده صحيح.
متابعات و شواہد: اس حدیث کے مرفوع حصے کا ایک شاہد ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی روایت میں موجود ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (5772) پر آئے گا اور اس کی سند صحیح ہے۔
وآخر من مرسل أبي البَخْتَري سيأتي عند المصنف كذلك برقم (5773)، ورجاله ثقات. والضَّيْحُ والضَّيَاحُ: اللبنُ الخاثر يُصَبُّ فيه الماءُ ثم يُخلَط.
متابعات و شواہد: ایک اور شاہد ابو البختری کی مرسل روایت سے بھی ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (5773) پر آئے گا، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
نوٹ / توضیح: "الضَّيْحُ" اور "الضَّيَاحُ" کا مطلب ہے: وہ گاڑھا دودھ جس میں پانی ڈال کر ملا دیا جائے۔