المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
شَجَاعَةُ عَمَّارٍ فِي غَزْوَةِ الْيَمَامَةِ باب: غزوۂ یمامہ میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان
حدیث نمبر: 5758
قال ابن عُمر: وحدثني عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: رأيتُ عمّار بن ياسر يومَ اليَمَامة على صَخْرةٍ، وقد أشرفَ يَصيحُ: يا معشر المسلمين، أمِن الجنّة تَفِرُّون؟! أنا عمّار بن ياسر، أمِن الجنَّةِ تَفِرُّون؟! أنا عمّار بن ياسر، هَلُمَّ إليّ، وأنا انظر إلى أُذُنِه قد قُطِعت فهي تَذَبْذَبُ، وهو يقاتلُ أشدَّ القتال (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے جنگ یمامہ کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک چٹان پر دیکھا، وہ بلندی سے پکار رہے تھے: ”اے گروہِ مسلمین! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں، کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں، میری طرف آؤ“، میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا ایک کان کٹ چکا تھا اور وہ لٹک رہا تھا جبکہ وہ انتہائی سخت قتال کر رہے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 235، وعنه البلاذُري في "أنساب الأشراف" 1/ 161 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 235) میں اور ان سے بلاذری نے "أنساب الأشراف" (1/ 161) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: تَذَبَذَبُ، أي: تَتَحرّك.
نوٹ / توضیح: قولہ "تَذَبَذَبُ" کا مطلب ہے: ہلنا یا حرکت کرنا۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 235) میں اور ان سے بلاذری نے "أنساب الأشراف" (1/ 161) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: تَذَبَذَبُ، أي: تَتَحرّك.
نوٹ / توضیح: قولہ "تَذَبَذَبُ" کا مطلب ہے: ہلنا یا حرکت کرنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5758 سے ماخوذ ہے۔