کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں اشعار پڑھنا
أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا عُمر بن محمد الأسَدِي، حدثنا أبي، حدثنا صالح بن موسى الطَّلْحي، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: لما وَضَعتِ الحربُ أوزارَها افتخَر رسولُ الله ﷺ وطلحةُ ساكِتٌ، وسِماكُ بن خَرَشة أبو دُجَانةَ ساكِتٌ لا يَنطِقُ، فقال رسولُ الله ﷺ: "لقد رأيتُني يومَ أُحُدٍ وما في الأرض قُربي مَخلوقٌ غيرَ جبريلَ عن يَميني، وطلحةَ عن يَساري"، فقيل في ذلك شعرًا: وطلحةُ يومَ الشِّعْبِ آسَى مُحمّدًا … لَدَى ساعةٍ ضاقَت عليهم وشَدَّتِ وَقَاهُ بكَفَّيهِ الرَّماحَ فَقُطِّعَتْ … أصابعُه تحتَ الرِّماحِ فشَلَّتِ وكان إمامَ الناسِ بعدَ مُحمّدٍ … أقرَّ رَحَى الإسلام حتى استَقَرّتِ (1)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب جنگ کے بادل چھٹے تو رسول اللہ ﷺ نے (اللہ کے فضل پر) اظہارِ افتخار فرمایا جبکہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سماک بن خرشہ یعنی ابو دجانہ رضی اللہ عنہ دونوں بالکل خاموش رہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ میں نے احد کے دن خود کو اس حالت میں دیکھا کہ روئے زمین پر میرے قریب کوئی مخلوق نہیں تھی سوائے جبریل (علیہ السلام) کے جو میری دائیں جانب تھے اور طلحہ (رضی اللہ عنہ) میری بائیں جانب تھے“، اس بارے میں یہ اشعار کہے گئے: ”اور طلحہ نے احد کی گھاٹی والے دن محمد ﷺ کی غمخواری کی، ایسے وقت میں جب حالات ان پر سخت اور تنگ ہو گئے تھے، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نیزوں کے سامنے آپ ﷺ کا دفاع کیا یہاں تک کہ ان کی انگلیاں نیزوں تلے کٹ کر شل ہو گئیں، اور وہ محمد ﷺ کے بعد لوگوں کے پیشوا تھے جنہوں نے اسلام کی چکی کو اس کے مستقر ہونے تک (اپنے ثبات سے) برقرار رکھا“۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسَدُ بن موسى، حدثنا سفيان بن عُيينة، قال: قال حَسّان بن ثابت في طلحةَ، وما حاشَى أحدًا: أقام إذْ أُسلِمَ النّبيُّ وإذْ … وَلَّى جَميعُ العِبادِ وانكَشَفُوا يَدفَعُ عن مُهجَةِ النّبيِّ وقدْ … دَنَا إليهِ العَدُوُّ وارتَدَفُوا مُضَمَّخٌ بالدِّماءِ مُهْجَتُهُ … خَشْيةَ إن قِيلَ: ثَأرَهُم، عَطَفُوا (1)
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی شان میں یہ اشعار کہے اور انہوں نے (مدح میں) کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا: ”وہ اس وقت ثابت قدم رہے جب نبی کریم ﷺ (دشمن کے نرغے میں) گھر گئے تھے اور جب تمام لوگ پیٹھ پھیر کر منتشر ہو چکے تھے، وہ نبی کریم ﷺ کی جانِ اطہر کا دفاع کر رہے تھے جبکہ دشمن آپ ﷺ کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا اور پے در پے حملے کر رہا تھا، ان کا جسم خون میں لت پت تھا اس خوف سے کہ اگر دشمن یہ کہہ کر پلٹ آیا کہ ہم نے اپنا بدلہ لینا ہے تو وہ دوبارہ ان پر ٹوٹ پڑیں گے“۔
حدثنا بصحّةِ ما قالهُ حسّان بن ثابت عُبيد الله بن أحمد البَلْخيُّ، ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل السُّلَمي، حدثنا سليمان بن أيوب بن عيسى بن موسى بن طلحة، حدثني أبي، عن جدِّي [عن موسى بن طلحة] (2) عن أخته أم إسحاق بنت طلحة، قالت: لقد سمعتُ أبي وهو يقول: لقد عُقِرتُ يومَ أُحُدٍ جميعَ جَسَدي حتى في ذَكَري (3). ذكرُ مناقب قُدَامة بن مَظْعُون بن حَبيب بن وَهْب الجُمَحِيّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5618 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5618 - سنده واه
حافظ طلحہ بابر
ام اسحاق بنت طلحہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”احد کے دن میرا پورا جسم زخمی ہو گیا تھا یہاں تک کہ میرے مخصوص عضو پر بھی زخم آئے تھے“۔