کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: چار امور کا بیان جن میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش رو رہے
حدثنا أبو حفص أحمد بن أحْيَد الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا أبو صالح الحَرّاني، حدثنا سليمان بن أَيّوب بن سليمان بن عيسى بن موسى (2) بن طَلْحة، عن أبيه، عن جده، قال: كان طَلْحةُ سِلْفَ النبيِّ في أربعٍ: كانت عند النبيِّ ﷺ عائشةُ بنتُ أبي بكر، وكانت أختُها أمُّ كُلثوم بنت أبي بكر عند طلحةَ، فولَدَت له زكريا ويوسفَ وعائشةَ، وكانت عند النبيِّ ﷺ زينبُ بنتُ جَحْش، وكانت حَمْنةُ بنت جَحْشٍ تحت طلحة بن عُبيد الله، فولَدَت له محمدًا، وقُتل يومَ الجمل مع أبيه، وكانت أمُّ حَبيبةَ بنت أبي سفيان تحتَ النبيِّ ﷺ، وكانت أختُها الرِّفاعةُ بنتُ أبي سفيان تحتَ طلحةَ بن عُبيد الله، وكانت أمُّ سلمة بنت أبي أُميّة تحت رسول الله ﷺ، وكانت أختُها قَرِيبةُ بنتُ أبي أُمية تحت طلحةَ بن عُبيد الله، فولدت له مريمَ بنت طلحة (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5596 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5596 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سلیمان بن ایوب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ چار نسبتوں سے نبی کریم ﷺ کے ہم زلف تھے: نبی کریم ﷺ کے نکاح میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ ان کی بہن ام کلثوم بنت ابوبکر سیدنا طلحہ کے نکاح میں تھیں جن سے ان کے ہاں زکریا، یوسف اور عائشہ پیدا ہوئے، اسی طرح نبی کریم ﷺ کے نکاح میں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ ان کی بہن حمنہ بنت جحش سیدنا طلحہ کے نکاح میں تھیں جن سے ان کے ہاں محمد پیدا ہوئے جو جنگ جمل میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے، نیز نبی کریم ﷺ کے نکاح میں سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ ان کی بہن رفاعہ بنت ابی سفیان سیدنا طلحہ کے نکاح میں تھیں، اور نبی کریم ﷺ کے نکاح میں سیدہ ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ ان کی بہن قریبہ بنت ابی امیہ سیدنا طلحہ کے نکاح میں تھیں جن سے ان کے ہاں مریم بنت طلحہ پیدا ہوئیں۔
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرَمي، حدثنا الحسن بن حمّاد الوَرّاق، حدثنا المُحاربي، عن ليثٍ، عن طَلْحة بن مُصَرِّف، قال: أجلَسَ عليٌّ طلحةَ يومَ الجَمَل، فمَسَحَ الترابَ عن رأسِه، ثم الْتَفَتَ إلى الحَسنِ بن عليٍّ، فقال: وَدِدتُ أني مِتُّ قبل هذا بثلاثين سنةً (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5597 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5597 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ (کے جسدِ مبارک) کے پاس بیٹھ گئے، ان کے سر سے مٹی جھاڑی اور پھر اپنے صاحبزادے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کاش! میں اس واقعے سے تیس سال پہلے ہی فوت ہو گیا ہوتا۔“
أخبرني أبو عون محمد بن أحمد بن ماهان الجَزّار على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا مُبَارك بن فَضَالة، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أن عليًّا قال يومَ الجمَل لما رأى القَتْلى والرؤوسَ تَنْدُر: يا حسنُ، أيُّ خَيرٍ يُرجَى: بعد هذا؟ قال: نَهيتُك عن هذا قبلَ أن تَدخُل (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مقتولین اور کٹے ہوئے سروں کو بکھرے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اے حسن! اس کے بعد اب کس خیر کی امید کی جا سکتی ہے؟“ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میں نے تو آپ کو اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ہی روکا تھا۔“
سمعت عليَّ بنَ عيسى الحِيْري يقول: سمعتُ محمد بن عمرو الحَرَشِي يقول: سمعت يحيى بن يحيى يقول: سمعت سفيانَ بن عُيَينة يقول: سألتُ عَمرَو بن دِينار، قلتُ: يا أبا محمد، بايَعَ طلحةُ والزبيرُ عليًّا؟ قال: أخبَرني حسنُ بن مُحمّد - ولم أرَ أحدًا قطُّ أعلمَ منه -: أنهما صَعِدا إليه فبايَعاهُ وهو في عِلَّيّةٍ، ثم نَزَلا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: ”اے ابو محمد! کیا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی؟“ انہوں نے کہا کہ مجھے حسن بن محمد نے بتایا— اور میں نے ان سے بڑھ کر عالم کسی کو نہیں دیکھا— کہ وہ دونوں بالا خانے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چڑھے اور ان کی بیعت کی، پھر نیچے اتر آئے۔
أخبرني الحسن بن محمد بن إسحاق الأزهري، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا العباس بن بَكَّار، حدثنا سُهيل بن أبي سُهيل التَّمِيمي، عن أبيه، قال: مَرَّ عليُّ بن أبي طالب بطلحةَ بن عُبيد الله وهو مَقتُول، فوقف عليه وقال: هذا واللهِ كما قال الشاعرُ: فتًى كان يُدنِيهِ الغِنى مِن صَديقِهِ … إذا ما هو استَغْنى ويُبعِدُه الفقرُ كأنَّ الثُريَّا عُلِّقَت في جَبينِهِ … وفي خَدِّه الشِّعْرى، وفي الآخَرِ البَدْرُ (1)
حافظ طلحہ بابر
سہیل بن ابی سہیل تمیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کے پاس سے ہوا جبکہ وہ شہید ہو چکے تھے، آپ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ ویسے ہی تھے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے: وہ ایسا جوان تھا کہ مالداری اسے اپنے دوستوں کے قریب کر دیتی تھی جب وہ غنی ہوتا، اور فقر اسے ان سے دور کر دیتا تھا (تاکہ ان پر بوجھ نہ بنے)؛ گویا اس کی پیشانی پر ثریا (ستارہ) جڑا ہوا ہے، اس کے ایک رخسار پر شعریٰ ستارہ اور دوسرے پر چودھویں کا چاند (چمک رہا) ہے“۔