کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرابت پر فخر
حَدَّثَنَا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حَدَّثَنَا عَتيق بن يعقوب الزُّبَيري، حدثني أبي (1) يعقوبُ، عن (2) الزُّبَير بن خُبَيب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبَير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال عبد الله بن الزُّبَير لأبيه: يا أبتِ حَدَّثني عن رسول الله ﷺ، حتَّى أُحدَّثَ عنكَ، فَإِنَّ كلَّ أبناءِ الصحابة يُحدِّث عن أبيه، فقال: يا بُنيّ، ما من أحدٍ صَحِبَ رسولَ الله ﷺ بصُحبةٍ إِلَّا وقد صحِبتُه بمثلِها أو أفضلَ منها، ولقد علمتَ بأنَّ أمَّك أسماء ابنة أبي بكر كانت تحتي، وأنَّ خالتَك عائشةُ بنتُ أبي بكر، ولقد علمتَ أنَّ أُمّي صَفيّةُ بنتُ عبد المُطَّلب، وأنَّ أخوالي حمزةُ بن عبد المُطلبِ وأبو طالب وعبّاسٌ، وأنَّ رسولَ الله ﷺ ابن خالي، ولقد علمتَ أنَّ عَمَّتي خديجةَ بنتَ خُويلد كانت تحتَه، وأنَّ ابنتَها فاطمةُ ابنةُ رسولِ الله ﷺ، و لقد علمتَ أن خديجةَ أمُّ أمِّها حبيبةُ بنت أسَدِ بن عبد العُزّى، ولقد علمتَ أنَّ أم رسولِ الله ﷺ آمنةُ بنتُ وَهْب بن عبد مَنافِ ابن زُهْرة، ولقد صحبتُه بأحسن صُحبةٍ، والحمدُ الله، ولقد سمعتُه يقول: "مَن قال عليَّ ما لم أقُلْ، فليَتَبَوّأْ مَقْعدَه من النارِ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے ابا جان! مجھے رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنائیں تاکہ میں آپ کے حوالے سے انہیں آگے بیان کروں، کیونکہ تمام صحابہ کے بیٹے اپنے والد سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: اے پیارے بیٹے! رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف جس کسی کو بھی حاصل ہوا، میں نے بھی ان جیسی یا ان سے بھی افضل صحبت اختیار کی، اور تم جانتے ہی ہو کہ تمہاری والدہ اسماء بنت ابی بکر میرے نکاح میں تھیں، اور تمہاری خالہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں، اور تمہیں یہ بھی علم ہے کہ میری والدہ صفیہ بنت عبد المطلب تھیں، اور میرے ماموں حمزہ بن عبد المطلب، ابوطالب اور عباس رضی اللہ عنہم تھے، اور خود رسول اللہ ﷺ میرے ماموں کے بیٹے ہیں، اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میری پھوپھی خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں، اور ان کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہیں، اور تمہیں یہ بھی علم ہے کہ سیدہ خدیجہ کی نانی حبیبہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ تھیں، اور رسول اللہ ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرہ تھیں، میں نے اللہ کے فضل سے آپ ﷺ کی بہترین رفاقت اختیار کی، البتہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، حَدَّثَنَا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن الزُّبير بن العوَّام، قال: أَخَذَ النَّبِيّ ﷺ بيدي (1)، فقال: "إنَّ لكل نبيٍّ حَوَاريًّا، وإِنَّ حَوَاريَّ الزُّبيرُ"، فقيل له: يا أبا عبد الله، أتعلَمُ أنَّ رسولَ الله ﷺ قالَها لأحدٍ غيرِك؟ قال: لا واللهِ ما أعلَمُ (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5558 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5558 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”بلاشبہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“ ان سے پوچھا گیا: اے ابوعبداللہ! کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور کے لیے بھی یہ بات فرمائی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! جہاں تک میرا علم ہے، کسی اور کے لیے نہیں فرمائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔