حدیث نمبر: 5656
حَدَّثَنَا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حَدَّثَنَا عَتيق بن يعقوب الزُّبَيري، حدثني أبي (1) يعقوبُ، عن (2) الزُّبَير بن خُبَيب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبَير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال عبد الله بن الزُّبَير لأبيه: يا أبتِ حَدَّثني عن رسول الله ﷺ، حتَّى أُحدَّثَ عنكَ، فَإِنَّ كلَّ أبناءِ الصحابة يُحدِّث عن أبيه، فقال: يا بُنيّ، ما من أحدٍ صَحِبَ رسولَ الله ﷺ بصُحبةٍ إِلَّا وقد صحِبتُه بمثلِها أو أفضلَ منها، ولقد علمتَ بأنَّ أمَّك أسماء ابنة أبي بكر كانت تحتي، وأنَّ خالتَك عائشةُ بنتُ أبي بكر، ولقد علمتَ أنَّ أُمّي صَفيّةُ بنتُ عبد المُطَّلب، وأنَّ أخوالي حمزةُ بن عبد المُطلبِ وأبو طالب وعبّاسٌ، وأنَّ رسولَ الله ﷺ ابن خالي، ولقد علمتَ أنَّ عَمَّتي خديجةَ بنتَ خُويلد كانت تحتَه، وأنَّ ابنتَها فاطمةُ ابنةُ رسولِ الله ﷺ، و لقد علمتَ أن خديجةَ أمُّ أمِّها حبيبةُ بنت أسَدِ بن عبد العُزّى، ولقد علمتَ أنَّ أم رسولِ الله ﷺ آمنةُ بنتُ وَهْب بن عبد مَنافِ ابن زُهْرة، ولقد صحبتُه بأحسن صُحبةٍ، والحمدُ الله، ولقد سمعتُه يقول: "مَن قال عليَّ ما لم أقُلْ، فليَتَبَوّأْ مَقْعدَه من النارِ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے ابا جان! مجھے رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنائیں تاکہ میں آپ کے حوالے سے انہیں آگے بیان کروں، کیونکہ تمام صحابہ کے بیٹے اپنے والد سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: اے پیارے بیٹے! رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف جس کسی کو بھی حاصل ہوا، میں نے بھی ان جیسی یا ان سے بھی افضل صحبت اختیار کی، اور تم جانتے ہی ہو کہ تمہاری والدہ اسماء بنت ابی بکر میرے نکاح میں تھیں، اور تمہاری خالہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں، اور تمہیں یہ بھی علم ہے کہ میری والدہ صفیہ بنت عبد المطلب تھیں، اور میرے ماموں حمزہ بن عبد المطلب، ابوطالب اور عباس رضی اللہ عنہم تھے، اور خود رسول اللہ ﷺ میرے ماموں کے بیٹے ہیں، اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میری پھوپھی خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں، اور ان کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہیں، اور تمہیں یہ بھی علم ہے کہ سیدہ خدیجہ کی نانی حبیبہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ تھیں، اور رسول اللہ ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرہ تھیں، میں نے اللہ کے فضل سے آپ ﷺ کی بہترین رفاقت اختیار کی، البتہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5656
درجۂ حدیث محدثین: مرفوعُه صحيح
تخریج حدیث «مرفوعُه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يعقوب والد عَتيق» [ترقيم الرساله 5656] [ترقيم الشركة 5603] [ترقيم العلميه 5557]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: أبو، والمثبت على الصواب من (ص) و (م) و "تلخيص الذهبي"، لأنَّ عتيقًا يروي هذا الخبر عن أبيه يعقوب: وهو ابن صُدَيق بن موسى بن عبد الله بن الزبير بن العوام.
نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "ابو" بن گیا ہے، درست نسخہ (ص)، (م) اور ذہبی کی "تلخیص" سے ثابت کیا گیا ہے، کیونکہ عتیق یہ خبر اپنے والد "یعقوب" سے روایت کرتے ہیں، اور وہ "ابن صدیق بن موسیٰ بن عبد اللہ بن زبیر بن عوام" ہیں۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: بن. وإنما يروي هذا الخبرَ يعقوبُ بنُ صُدَيق والدُ عتيقٍ عن ابن ابن عم أبيه الزبير بن خبيب، وليس الزبير بن حبيب أبا يعقوب، فلا شكَّ بأنَّ لفظة "بن" هنا تحريف.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔ حالانکہ یعقوب بن صدیق (عتیق کے والد) یہ خبر اپنے والد کے چچا زاد بھائی "زبیر بن خبیب" سے روایت کر رہے ہیں، اور زبیر بن خبیب یعقوب کے والد نہیں ہیں، لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں لفظ "بن" تحریف ہے۔
(3) مرفوعُه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يعقوب والد عَتيق - وهو ابن صُدَيق بن موسى بن عبد الله بن الزبير بن العوام - فلا يُعرف روى عنه غير ابنه عَتيق.
درجۂ حدیث: (3) اس کا مرفوع حصہ "صحیح" ہے، لیکن یہ سند "ضعیف" ہے کیونکہ یعقوب والدِ عتیق (ابن صدیق بن موسیٰ بن عبد اللہ بن زبیر بن عوام) مجہول ہیں، ان سے ان کے بیٹے عتیق کے علاوہ کسی کی روایت معروف نہیں ہے۔
وأخرجه ابن حبان (6982) من طريق أحمد بن الحسن بن خراش، عن عتيق بن يعقوب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6982) نے احمد بن حسن بن خراش کے طریق سے، انہوں نے عتیق بن یعقوب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 3/ (1413) و (1428)، والبخاري (107)، وأبو داود (3651)، وابن ماجه (36)، والنسائي (5881) من طريق عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه قال: قلت للزبير ما لي لا أسمعك تحدَّث عن رسول الله ﷺ كما أسمع ابن مسعود وفلانًا وفلانًا؟! قال: أما إني لم أفارقه منذ أسلمتُ، ولكني سمعتُ منه كلمةً يقول: "من كذب عليَّ فليتبوأ مقعده من النار".
حوالہ / مصدر: احمد 3/ (1413) اور (1428)، بخاری (107)، ابوداؤد (3651)، ابن ماجہ (36) اور نسائی (5881) نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے (اپنے والد) زبیر سے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے ویسے حدیث بیان کرتے نہیں سنتا جیسے میں ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں؟! انہوں نے فرمایا: میں جب سے اسلام لایا ہوں آپ ﷺ سے جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ ﷺ سے ایک بات سنی ہے، آپ فرماتے تھے: "جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5656 سے ماخوذ ہے۔