کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: غزوۂ بدر کے دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے فدیہ کا بیان
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجَبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبَير، عن أبيه، عن عائشة، قالت: لما بَعَث أهلُ مكةَ في فِداء أسْراهم بَعَثَتُ زينبُ بنتُ رسول الله ﷺ في فِداء أبي العاص، وبعثت فيه بقِلادةٍ كانت خديجةُ أدخلَتْها بها على أبي العاص حين بَنَى عليها، فلما رآها رسولُ الله ﷺ رَقَّ لها رِقّةً شديدةً، وقال: "إن رأيتُم أن تُطلِقُوا لها أَسِيرَها، وتَرُدُّوا عليها الذي لها فافْعَلُوا" قالوا: نعم يا رسول الله، ورَدُّوا عليها (1) الذي لها. قال: وقال العباسُ: يا رسول الله، إني كنت مُسلمًا، فقال رسول الله ﷺ: "الله أعلمُ بإسلامك، فإن يَكُنْ كما تقولُ فاللهُ يَجزِيكَ، فافْدِ نَفْسَك وابنَي أخَوَيك نوفلَ بنَ الحارث بن عبد المُطّلب وعَقِيلَ بنَ أبي طالب بن عبد المُطّلب وحَلِيفَك عُتبةَ بنَ عمرو بن جَحْدَم - أخو بني الحارث بن فِهْر - " فقال: ما ذاك عندي يا رسول الله، قال: "فأينَ المالُ الذي دفَنْتَ أنتَ وأمُّ الفضل فقلتَ لها: إن أُصِبتُ فهذا المالُ لِبَنيَّ: الفضلِ وعبدِ الله وقُثَمَ؟ " فقال: والله يا رسولَ الله إني أَشهَدُ أنك رسولُه، إنَّ هذا لَشَيءٌ ما عَلِمَه أحدٌ غَيري وغيرُ أمِّ الفضل، فاحسِبْ لي يا رسولَ الله ما أصبْتُم مني عِشْرِينَ أُوقيَّةً من مالٍ كان معي، فقال رسول الله ﷺ: "أَفْعَلُ" ففَدَى العباسُ نفسَه وابنَي أخَوَيه وحَلِيفَه، وأنزلَ اللهُ ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى (2) إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [الأنفال: 70] فأعطاني مكانَ العِشرين الأُوقيّةِ في الإسلام عشرينَ عَبْدًا، كلُّهم في يدِه مالٌ يَضرِبُ به، مع ما أرجُو من مغفرةِ الله ﷿ (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5409 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے (اپنے شوہر) ابو العاص کے فدیے میں وہ ہار بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی رخصتی کے وقت انہیں دیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ پر انتہائی رقت طاری ہو گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا مال اسے واپس کر دو،“ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں اے اللہ کے رسول! اور انہوں نے وہ ہار واپس کر دیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں تو (پہلے ہی) مسلمان تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تمہارے اسلام کو بہتر جانتا ہے، اگر حقیقت وہی ہے جو تم کہہ رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا، لیکن (ظاہر کے مطابق) تم اپنا، اپنے بھتیجوں نوفل بن حارث بن عبد المطلب اور عقیل بن ابی طالب بن عبد المطلب اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو بن جحدم کا فدیہ ادا کرو،“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے پاس تو اتنا مال نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ مال کہاں ہے جو تم نے اور ام الفضل نے زمین میں دفن کیا تھا اور تم نے ان سے کہا تھا کہ اگر میں (جنگ میں) مارا جاؤں تو یہ مال میرے بیٹوں فضل، عبد اللہ اور قثم کے لیے ہے؟“ اس پر انہوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، کیونکہ یہ ایسی بات تھی جسے میرے اور ام الفضل کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا، اے اللہ کے رسول! اب وہ بیس اوقیہ مال بھی اس فدیے میں شمار کر لیں جو آپ لوگوں نے مجھ سے (جنگ میں) حاصل کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسا ہی کروں گا،“ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا، اپنے بھتیجوں اور حلیف کا فدیہ ادا کر دیا، اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة الأنفال: 70]، (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) اللہ نے مجھے اس بیس اوقیہ کے بدلے اسلام میں بیس غلام عطا فرمائے جن میں سے ہر ایک کے پاس تجارت کے لیے مال ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ میں اللہ عزوجل کی مغفرت کا امیدوار ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن بذكر قصة زينب وأبي العاص من أجل ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار المُطَّلبي مولاهم - وقد صرح بسماعه فانتفت شبهة تدليسه، وأما قصة العباس بن عبد المُطَّلب فوهم المصنِّف ﵀ في كتابه هذا إذ أدرجها بعد قصة زينب وأبي العباس بإسناد ابن إسحاق إلى ...» [ترقيم الرساله 5496] [ترقيم الشركة 5450] [ترقيم العلميه 5409]
أخبرني عبد الله بن الحُسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا عبد الله بن عمرو بن أبي أُميَّة، حدثنا ابن أبي الزِّناد، عن محمد بن عُقبة، عن كُريب عن ابن عباس، قال: كان رسولُ الله ﷺ يُجِلُّ العباسَ إجلالَ الولدِ والدَه، خاصّةٌ خَصَّ الله العباسَ بها من بين الناس (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5410 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ویسی ہی تعظیم و توقیر فرماتے تھے جیسے ایک بیٹا اپنے والد کی کرتا ہے، اور یہ وہ خاص فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں میں سے صرف سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5497
درجۂ حدیث محدثین: حسنٌ لغيره
تخریج حدیث «حسنٌ لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عَمرو بن أبي أُميَّة، فقد قال الدارقطني في "سننه" عند الحديث (1092): ليس بقوي. ثم إنَّ المحفوظ في هذا الخبر أنه مرسلٌ ليس فيه ذكر ابن عباس، كذلك رواه غير واحدٍ عن ابن أبي الزِّناد - واسمه عبد الرحمن - وأغلب ...» [ترقيم الرساله 5497] [ترقيم الشركة 5451] [ترقيم العلميه 5410]