کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وصیتوں کا بیان
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، حدَّثنا جعفر بن عون، عن أبي العُمَيس، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير: ذكرُ ما أوصى به عبدُ الله بنُ مسعود إن حَدَثَ به حَدَثٌ في مرضِه هذا أن يَرجعَ وصيَّتَه إلى الله، ثم إلى الزُّبَير بن العوام وابنه عبد الله بن الزُّبير، وإنهما في حِلٌ وبِلٍّ فيما وَلِيا وقَضَيا، ولا تُزَوَّجُ بناتُ عبدِ الله إلا بإذنِهما، ولا يُخَصُّ ذلك عن زينب (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے دوران یہ وصیت فرمائی کہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، پھر انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام اور ان کے صاحبزادے سیدنا عبد اللہ بن زبیر کو اپنا وصی مقرر کیا، اور فرمایا کہ وہ دونوں ان کے معاملات کی دیکھ بھال اور فیصلوں میں مکمل طور پر بااختیار ہیں، نیز عبد اللہ کی بیٹیوں کا نکاح ان دونوں کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا، اور اس معاملے میں (ان کی اہلیہ) زینب کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا شُعبة، حدثني أبو العُميس، عن مُسلم البَطِين، عن عمرو بن ميمون، قال: كان عبدُ الله تأتي عليه السَّنَةُ لا يُحدِّث عن رسول الله ﷺ، فحدَّث ذاتَ يومٍ عن رسول الله ﷺ بحديثٍ فعَلَتْه كآبةٌ، وجعل العَرَقُ يَتحادَر على جبهته، ويقول: نحوُ هذا أو قريبٌ من هذا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5374 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5374 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر پورا پورا سال گزر جاتا لیکن وہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان نہ کرتے، پھر ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی تو ان پر اداسی اور خشیت کی کیفیت طاری ہو گئی، ان کی پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگا اور وہ (انتہائی احتیاط کے طور پر) کہنے لگے: ”رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح یا اس کے قریب قریب فرمایا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدَّثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدَّثنا أبو كُريب، حدَّثنا إبراهيم بن يوسف بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي إسحاق السَّبيعي، عن الأسود، أنه سمع أبا موسى يقول: قدمتُ أنا وأخي من اليمن، فمَكَثْنا حِينًا ما نُرَى إلَّا أنَّ عبد الله بن مسعود رجلٌ من أهل بيتِ رسول الله ﷺ، مما نرى من دخوله ودخولِ أمِّه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5375 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5375 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
اسود سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں اور میرا بھائی یمن سے (مدینہ) حاضر ہوئے تو ایک طویل عرصے تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہی کا ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم کثرت سے ان کا اور ان کی والدہ کا رسول اللہ ﷺ کے گھر میں بلا روک ٹوک آنا جانا دیکھتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔