کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری ہیں
حدثني محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق، حدَّثنا عُبيد الله بن سعد، حدَّثنا يعقوب، عن أبيه: أنَّ عبد الرحمن بن عوف كان يُقال له: حَوَارِيُّ رسولِ الله ﷺ (3).
حافظ طلحہ بابر
یعقوب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کا ”حواری“ (خاص جاں نثار ساتھی) کہا جاتا تھا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن أبيه، عن المِسوَر بن مَخْرَمة، قال: كنتُ أسِيرُ في رَكْبٍ بين عُثمان وعبد الرحمن بن عوف، فقال عثمان: مَن صاحبُ الخَمِيصة؟ فقال عبد الرحمن: أنا، فقال عثمان: ها يا مِسورُ، مَن زَعَم أنه خيرٌ من خالِك عبدِ الرحمن في الهجرة الأولى فقد كَذَبَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5352 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5352 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان سواری کے ایک قافلے میں جا رہا تھا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ قمیص والا کون ہے؟ عبد الرحمن نے جواب دیا: میں ہوں، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مسور! جو شخص یہ گمان کرے کہ وہ پہلی ہجرت کے فضائل میں تمہارے ماموں عبد الرحمن سے بہتر ہے، تو اس نے جھوٹ بولا ہے۔
أخبرني أحمد بن علي المُقرئ، حدَّثنا أبو أُمية محمد بن إبراهيم، حدَّثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدَّثنا إبراهيم بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف، حدثني أبي، عن عبد الرحمن بن حُميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن أمه أم كُلثُوم بنت عُقبة، قالت: دخل رسولُ الله ﷺ على بُسْرةَ وهي تَمشُطُ عائشة، فقال: "يا بُسْرةُ، من يَخطُب أمَّ كُلثوم؟ " قالت: فسَمَّت رجُلًا أو رجُلين، قال: "فأين أنتُم عن سيدِ المسلمين عبدِ الرحمن بن عَوف؟! " (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5353 - في إسناده يعقوب بن محمد الزهري وهو ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5353 - في إسناده يعقوب بن محمد الزهري وهو ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے جبکہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے بسرہ! ام کلثوم کو نکاح کا پیغام کون دے رہا ہے؟“ انہوں نے ایک یا دو اشخاص کے نام لیے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا سید المسلمین (مسلمانوں کے سردار) عبد الرحمن بن عوف کے بارے میں کیا خیال ہے؟!“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العَدْل، حدَّثنا عبد الله بن رَوح المَدائني، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو المُعلَّى الجَزَري، عن ميمون بن مِهْران، عن ابن عمر، عن علي بن أبي طالب: أنَّ عبد الرحمن بن عوف قال لأصحاب الشُّورى: هل لكم أن أختارَ لكم وأنتقِلَ منها؟ فقال عليٌّ: أنا أولُ مَن رَضِي، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ لك: "أنت أمينٌ في أهل السماء، أمينٌ في أهل الأرض" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5354 - أبو المعلى هو فرات بن السائب تركوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5354 - أبو المعلى هو فرات بن السائب تركوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کے ارکان سے کہا: کیا آپ لوگ اس پر تیار ہیں کہ میں آپ کے لیے (خلیفہ کا) انتخاب کروں اور میں خود اس دوڑ سے الگ ہو جاؤں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سب سے پہلے اس تجویز پر راضی ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آپ آسمان والوں میں بھی امین ہیں اور زمین والوں میں بھی امین ہیں۔“