کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قرآنِ مجید کی سب سے عظیم آیت آیت الکرسی ہے
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي السَّلِيل، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أُبي بن كعب، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "أبا المُنذِر، أيُّ آيةٍ في كتاب الله معك أعظمُ؟ " قال: قلتُ: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255]، قال: فَضَرَب صدري، وقال: "لِيَهْنِكَ العلمُ أبا المُنذِر" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5326 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو المنذر! تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟“ میں نے عرض کی: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255]، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر (تھپکی دیتے ہوئے) ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اے ابو المنذر! تمہیں تمہارا علم مبارک ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5410
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إبراهيم بن عبد الله: هو ابن يزيد السَّعْدي، وأبو السَّلِيل: هو ضُرَيب بن نُقَير القيسي.» [ترقيم الرساله 5410] [ترقيم الشركة 5364] [ترقيم العلميه 5326]
أخبرني أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد، حدَّثنا أبو قِلابة، قال: حدثني أبي، قال: حدثني جعفر بن سُليمان، عن أبي عِمران الجَوْني، عن جُندُبٍ، قال: قدمتُ المدينة لأطلُبَ العلمَ، فدخلتُ المسجدَ، فإذا رجلٌ والناسُ مجتمعون عليه، فقلت: مَن هذا؟ قالوا: هذا أبيُّ بنُ كعب، فخرج فتَبِعتُه، فدخلَ منزلَه فضربتُ عليه البابَ، فخرجَ فَزَبَرني وكَهَرني، فاستقبلتُ القِبلةَ، فقلت: اللهمَّ إِنَّا نَشكُوهم إليك، نُنفِقُ نفَقاتِنا، ونُتعِب أبدانَنا، ونَرحَلُ مَطَايانا ابتغاءَ العلمِ، فإِذا لَقِيناهُم كَرِهُونا، فقال: لَئِن أخَّرتَني إلى يوم الجُمُعة لأتكلَّمَن بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ، لا أخافُ فيه لومةَ لائمٍ، فلما كان يومُ الخميس غَدَوتُ فإذا الطُّرق غاصةٌ، فقلت: ما شأن الناسِ اليومَ، قالوا: كأنك غَريبٌ، قلت: أجل، قالوا: مات سيدُ المسلمين أبيُّ بن كعب (1).
حافظ طلحہ بابر
جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں علم کی طلب میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک شخص کے گرد لوگ جمع ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، جب وہ (مسجد سے) اٹھے تو میں ان کے پیچھے چل پڑا، وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، وہ باہر تشریف لائے تو انہوں نے مجھے جھڑکا اور مجھ پر سختی کی، میں نے (دکھ کے عالم میں) قبلہ رخ ہو کر عرض کی: اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں ان (صاحبِ علم لوگوں) کی شکایت کرتے ہیں، ہم اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنے جسموں کو تھکاتے ہیں اور علم کی تلاش میں اپنی سواریاں دوڑاتے ہوئے (دور دراز سے) آتے ہیں، لیکن جب ہم ان سے ملتے ہیں تو وہ ہمیں ناپسند کرتے ہیں، اس پر انہوں نے فرمایا: ”اگر تم نے مجھے جمعہ کے دن تک مہلت دی تو میں وہ سب کچھ بیان کر دوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور میں اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کروں گا“، پھر جب جمعرات کا دن ہوا اور میں صبح سویرے نکلا تو دیکھا کہ راستے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں، میں نے پوچھا: آج لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: شاید تم یہاں اجنبی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے بتایا: مسلمانوں کے سردار سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5411
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد،من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي، أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب، وجُندب: هو ابن عبد الله البَجَلي.» [ترقيم الرساله 5411] [ترقيم الشركة 5365]