کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ (سیدنا نعمان کے بھائی) کا ذکر
قال حمّاد: فحدَّثَني عليُّ بن زيد، حدثنا أبو عثمان النَّهْدي: أنه أتى عُمرَ، فقال: ما فعل النُّعمانُ بن مُقَرِّن؟ فقال: قُتل، قال: إنا لله وإنا إليه راجعون، ثم قال: ما فعلَ فلانٌ، قلت: قُتِل يا أمير المؤمنين، وآخرين لا نَعلَمُهم، قال: قلتَ: لا نَعلَمُهم! لكنَّ الله يَعلمُهم (1). ذكرُ أخيه سُوَيد بن مُقرِّن ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”نعمان بن مقرن کا کیا بنا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”وہ شہید کر دیے گئے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ ”ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”فلاں شخص کا کیا بنا؟“ میں نے عرض کی: ”اے امیر المومنین! وہ بھی شہید ہو گئے ہیں، اور کچھ دیگر لوگ بھی شہید ہوئے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو کہ ہم انہیں نہیں جانتے! لیکن اللہ تو انہیں جانتا ہے۔“
(اس کے بعد) ان کے بھائی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5362M
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وهذ إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد» [ترقيم الرساله 5362M]
حدثنا محمد بن علي الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوري، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن معاوية بن سُوَيد بن مُقَرِّن، عن سُويد بن مُقرِّن، قال: كنَّا بني مُقرِّن سبعةً على عهدِ رسول الله ﷺ لنا خادمٌ، فلَطَمَه أحدنا، فقال النبي ﷺ: "أعتِقوها" (1). ذكرُ مناقب قَتَادة بن النُّعمان الظَّفَري، وهو أخو أبي سعيد الخُدْري لأُمِّه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم بنو مقرن کے سات بھائی تھے جو رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں (مدینہ میں مقیم) تھے، ہمارا ایک خادم تھا جسے ہم میں سے کسی نے تھپڑ مار دیا، تو نبی کریم ﷺ نے (بطورِ کفارہ) ارشاد فرمایا: ”اسے آزاد کر دو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم: هو الدَّبَري، والثوري: هو سفيان بن سعيد.» [ترقيم الرساله 5363] [ترقيم الشركة 5317] [ترقيم العلميه 5280]