کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: امارتِ نعمان بن مقرن میں اصفہان کی فتح اور جنگ میں فتح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقِ عمل کا بیان
وزاد فيه أبو عبد الله بن بُطَّة (3) بإسناده عن محمد بن عمر، فقال: ابن مُقرِّن بن عائذ بن مِيجا (4) بن هُجَير بن نصر بن حُبْشِيَّة بن كعب بن ثَوْر بن هُذْمة (1) بن لاطِم بن عثمان بن مُزَينة، ويُكنى أبا عمرو، وكان هو وستةُ إخوةٍ له شَهِدوا الخندقَ مع رسول الله ﷺ، وكان النعمانُ أحدَ مَن حَمَل إحدى أَلْويةِ رسولِ الله ﷺ، وصاحبَ لواء مُزَينة التي كان رسولُ الله ﷺ عَقَدَها لهم يوم فتح مكة، وكان النعمان أميرَ الجيش يوم نهاوند، فقُتل يومئذٍ، وذلك سنة إحدى وعشرين من الهجرة (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ نعمان بن مقرن بن عائذ بن میجا بن ہجیر بن نصر بن حبشیہ بن کعب بن ثور بن ہذمہ بن لاطم بن عثمان بن مزینہ (ان کا نسب ہے)، ان کی کنیت ابو عمرو تھی، وہ اور ان کے چھ بھائی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ خندق میں شریک ہوئے تھے، نعمان ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے جھنڈوں میں سے ایک جھنڈا اٹھایا، وہ قبیلہ مزینہ کے اس جھنڈے کے علمبردار تھے جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ان کے لیے باندھا تھا، نعمان جنگِ نہاونڈ کے دن لشکر کے امیر (سپہ سالار) تھے اور اسی معرکے میں سنہ 21 ہجری میں شہید ہوئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5361
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5361] [ترقيم الشركة 5315]
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن علقمة بن عبد الله المُزَني، عن مَعقِل بن يَسار: أنَّ عمر بن الخطاب شاوَرَ الهُرمُزانَ فِي أَصبَهانَ وفارسَ وأَذْربِيجانَ، فقال: يا أمير المؤمنين، أصبهانُ الرأسُ، وفارسُ وأَذْرَبِيجانُ الجناحان، فإذا قطعتَ أحدَ الجناحين، ناءَ الرأسُ (3) بالجناح، وإن قطعتَ الرأسَ وقع (4) الجناحان، فابدأ بأصبَهانَ، فدخل عمرُ المسجدَ، فإذا هو بالنعمانِ بن مُقَرِّن يُصلِّي، فانتظره حتى قضى صلاتَه، فقال له: إني مُستعمِلُك، فقال: أما جابيًا فلا، وأما غازيًا فنَعَم؟ قال: فإنك غازٍ، فسَرَحَه، وبعثَ إلى أهل الكوفة أن يُمِدُّوه ويَلْحَقُوا به، وفيهم حذيفةُ بن اليمان والمُغيرة بن شعبة والزُّبير بن العوّام والأشعث بن قيس وعمرو بن مَعْدِي كَرِب وعبد الله بن عمرو، فأتاهم النعمان وبينه وبينهم نهر، فبعث إليهم المغيرةَ بنَ شعبة رسولًا، ومَلِكُهم ذو الحاجبين (1)، فاستشار أصحابَه، فقال: ما تَرَون، أقعُدُ لهم في هيئة الحرب أو في هيئة المُلك وبَهجَتِه؟ فجلس في هيئة المُلك وبَهجَته على سريرٍ، ووضع التاجَ على رأسِه وحولَه سِماطَين (2) عليهم ثياب الدِّيْباج، والقِرَطةُ، والأسْوِرَةُ، فجاء المغيرة بن شعبة، فأُخِذ بضَبْعَيه وبيده الرمحُ والترسُ والناسُ حولَه سِماطَين على بِساطٍ له، فجعل يَطعُنه برُمحِه، فخرَّقه لكي يَتطيّروا، فقال له ذو الحاجبين (3): إنكم يا معشرَ العرب أصابَكم جوعٌ شديدٌ وجَهدٌ فخَرجتُم، فإن شئتُم مِرْناكم ورجعتُم إلى بلادكم، فتكلَّم المغيرةُ فحمدَ الله وأثنى عليه، وقال: إنا كنا مَعشَر العرب نأكل الجِيَف والمَيتة، وكان الناسُ يَطَؤُونا ولا نَطَؤُهم، فابتعثَ اللهُ منا رسولًا في شَرَفٍ منا؛ أوسطُنا حَيًّا، وأصدقنا حديثًا، وإنه وعدَنا أنَّ هاهنا ستُفتَح علينا، وقد وجدْنا جميعَ ما وعدَنا حقًّا، وإني لأرى هاهنا بِزَّةً وهيئةً ما أَرى مَن معي بذاهِبينَ حتى يأخُذُوه، فقال المغيرةُ: فقالت لي نفسي: لو جمعتَ جَرامِيزَك فوَثَبَتَ وَثْبةً فجلستَ معه على السَّرير، إذ وجدتُ غَفْلَةً فَزَجَروني (4)، وجعلوا يَجَؤُونه، فقلت: أرأيتُم إن كنتُ أنا استَحْمَقتُ (1)، فإن هذا لا يُفعَل بالرُّسُل، وإنا لا نفعل هذا برُسُلكم إذا أَتَوْنا، فقال: إن شئتُم قَطَعْنا إليكم، وإن شئتُم قطعتُم إلينا، فقلتُ: بل نَقطَعُ إليكم. فقَطَعْنا إليهم، وصافَفْناهم فتسَلْسَلُوا كُلُّ سبعةٍ في سلسلةٍ، وخمسةٍ في سلسلة، حتى لا يَفِرُّوا، قال: فرامَونا حتى أسرعُوا فينا، فقال المغيرةُ للنعمان: إنَّ القومَ قد أسرَعُوا فينا، فاحمِلْ، فقال: إنك ذو مناقبَ، وقد شهدتَ مع رسولِ الله ﷺ، ولكنّي أنا شهدتُ رسولَ الله ﷺ إذا لم يُقاتِل أولَ النهارِ أخَّر القتالَ حتى تزولَ الشمسُ وتَهُبَّ الرياحُ، وينزلُ النصرُ، فقال النعمان: يا أيها الناس، أَهتزُّ ثلاثَ هَزّاتٍ، فَأَمَّا الهَزّةُ الأولى فليَقضِ الرجلُ، حاجتَه، وأمَّا الثانية فلينظر الرجلُ في سلاحِه وسَيفِه، وأما الثالثة فإني حاملٌ فاحمِلُوا، فإن قُتِل أحدٌ فلا يَلْوي أحدٌ على أحدٍ، وإن قُتِلتُ فلا تَلْوُوا عليَّ، وإني داعٍ الله بدعوةٍ، فعزمتُ على كلِّ امرئ منكم لَمَا أمَّن عليها، فقال: اللهمَّ ارزُق اليومَ النعمانَ شهادةً بنَصْر المسلمين وافتَحْ عليهم، فأمَّن القومُ، وهَزَّ لواءَه ثلاثَ مراتٍ، ثم حَمَل، فكان أولَ صَرِيعِ، فذكرتُ وصيَّتَه فلم ألْوِ عليه، وأَعلمْتُ مكانَه، فكنا إذا قَتلْنا رجلًا منهم شُغِل عنا أصحابُه يَجُرُّونه، ووقع ذو الحاجِبَين (2) من بَغْلتِه الشهباءِ، فانشَقَّ بطنُه، وفَتحَ اللهُ على المسلمين، فأتيتُ النعمانَ وبه رَمَقٌ، فأتيتُه بماءٍ فجعلتُ أصُبُّه على وجهه أغسِلُ الترابَ عن وجهِه، فقال: مَن هذا؟ فقلت: مَعقِلُ بن يَسار، فقال: ما فعلَ الناسُ؟ فقلت: فَتحَ اللهُ عليهم، فقال: الحمدُ لله، اكتُبوا بذلك إلى عُمر، وفاضَتْ نفسه، فاجتمع الناسُ إلى الأشعثِ بن قيس، قال: فأتينا أمَّ ولدِه فقُلْنا: هل عَهِدَ إليك عَهْدًا؟ قالت: لا، إلَّا سُفَيطٌ له فيه كتابٌ، فقرأتُه فإذا فيه: إن قُتل فلانٌ ففُلان، وإن قُتل فلانٌ … (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5279 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصفہان، فارس اور آذربائیجان (کی فتوحات) کے متعلق مشورہ کیا، تو اس نے کہا: اے امیر المومنین! اصفہان ”سر“ ہے، اور فارس و آذربائیجان اس کے دو ”بازو“ ہیں، اگر آپ ایک بازو کاٹ دیں گے تو سر دوسرے بازو کے سہارے اٹھا رہے گا، لیکن اگر آپ سر کاٹ دیں گے تو دونوں بازو خود بخود گر جائیں گے، لہذا آپ اصفہان سے آغاز کریں، پھر سیدنا عمر مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں نعمان بن مقرن کو نماز پڑھتے پایا، آپ نے ان کی نماز مکمل ہونے کا انتظار کیا اور پھر فرمایا: میں تمہیں (علاقے کا) حاکم مقرر کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے عرض کیا: اگر ٹیکس وصول کرنے کے لیے ہے تو نہیں، لیکن اگر جہاد کے لیے ہے تو ہاں، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم غازی (مجاہد) ہی ہو، چنانچہ انہیں روانہ کیا اور اہلِ کوفہ کو پیغام بھیجا کہ ان کی مدد کریں اور ان سے جا ملیں، ان لوگوں میں حذیفہ بن یمان، مغیرہ بن شعبہ، زبیر بن عوام، اشعث بن قیس، عمرو بن معدی کرب اور عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہم) شامل تھے، جب نعمان ان کے پاس پہنچے تو ان کے اور دشمن کے درمیان ایک نہر حائل تھی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ کو قاصد بنا کر بھیجا، ان کا بادشاہ ”ذوالحاجبین“ (دو پٹیوں والا) تھا، اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ میں ان (عربوں) کے سامنے جنگی ہیبت کے ساتھ بیٹھوں یا شاہانہ جاہ و جلال کے ساتھ؟ پھر وہ اپنے تخت پر شاہانہ شان و شوکت سے بیٹھا، سر پر تاج سجایا اور اس کے اردگرد ریشمی لباس، بالیاں اور کنگن پہنے ہوئے درباریوں کی دو صفیں تھیں، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آئے جبکہ ان کے ہاتھ میں نیزہ اور ڈھال تھی اور لوگ انہیں بازوؤں سے پکڑ کر (ان شاہانہ آداب پر مجبور کر رہے تھے) جبکہ اردگرد صفیں لگی ہوئی تھیں، وہ قالین پر اپنے نیزے سے چھید کرتے ہوئے آئے تاکہ وہ اسے برا شگون سمجھیں، ذوالحاجبین نے ان سے کہا: اے عربوں کی جماعت! تمہیں سخت بھوک اور مشقت نے یہاں آنے پر مجبور کیا ہے، اگر تم چاہو تو ہم تمہیں غلہ دے دیں گے اور تم اپنے ملک واپس چلے جاؤ، تب مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کلام کیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ہم عرب کے لوگ مردار اور جیفہ کھایا کرتے تھے، لوگ ہمیں روندتے تھے اور ہم کسی کو نہیں روند سکتے تھے، پھر اللہ نے ہم میں ایک رسول بھیجا جو ہم میں سب سے زیادہ معزز، عالی نسب اور سچے ہیں، انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ یہ علاقہ ہم پر فتح ہوگا، اور ہم نے ان کے تمام وعدوں کو سچا پایا، اب میں یہاں وہ ساز و سامان اور جاہ و جلال دیکھ رہا ہوں کہ میرا نہیں خیال کہ میرے ساتھی اسے حاصل کیے بغیر یہاں سے واپس جائیں گے، مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں ایک دم اچھل کر اس کے ساتھ تخت پر بیٹھ جاؤں لیکن انہوں نے مجھے جھڑک دیا اور دھکے دیے، میں نے کہا: اگر تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو تو سمجھو لیکن قاصدوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا، پھر اس نے کہا: اگر تم چاہو تو تم نہر پار کر کے ہماری طرف آ جاؤ یا ہم تمہاری طرف آئیں، میں نے کہا: ہم تمہاری طرف آتے ہیں، چنانچہ ہم نے نہر پار کی اور صف بندی کر لی، دشمن نے سات سات اور پانچ پانچ آدمیوں کو ایک ہی زنجیر میں باندھ لیا تھا تاکہ کوئی بھاگ نہ سکے، انہوں نے ہم پر تیر اندازی کی یہاں تک کہ ہم میں سے بہت سے زخمی ہو گئے، مغیرہ نے نعمان سے کہا: دشمن نے ہمیں زخمی کر دیا ہے اب آپ حملہ کریں، نعمان نے کہا: آپ بڑے صاحبِ فضیلت ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک رہے ہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ ﷺ دن کے آغاز میں قتال نہ فرماتے تو اسے زوالِ شمس تک مؤخر کر دیتے جب ہوائیں چلتی تھیں اور نصرتِ الٰہی نازل ہوتی تھی، پھر نعمان نے کہا: اے لوگو! میں جھنڈے کو تین بار حرکت دوں گا، پہلی بار میں ہر شخص اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے، دوسری بار میں ہر شخص اپنا اسلحہ اور تلوار دیکھ لے، اور جب میں تیسری بار حرکت دوں تو میں حملہ کروں گا تم بھی حملہ کر دینا، اگر کوئی مارا جائے تو کوئی کسی کی طرف نہ مڑے، اور اگر میں مارا جاؤں تب بھی میری طرف مت مڑنا، اور میں اللہ سے ایک دعا کر رہا ہوں جس پر تم سب نے آمین کہنی ہے، انہوں نے دعا کی: ”اے اللہ! آج نعمان کو مسلمانوں کی فتح کے ساتھ شہادت نصیب فرما اور ان پر کامیابی کے دروازے کھول دے“، سب نے آمین کہی، پھر انہوں نے تین بار جھنڈا ہلایا اور حملہ کر دیا، وہ سب سے پہلے گرنے والے (شہید ہونے والے) تھے، مجھے ان کی وصیت یاد تھی اس لیے میں ان کی طرف نہیں مڑا لیکن ان کی جگہ کا نشان رکھ لیا، پھر جب ہم ان کا کوئی آدمی قتل کرتے تو وہ اسے گھسیٹنے میں مصروف ہو جاتے اور ہم سے غافل ہو جاتے، ذوالحاجبین اپنے سفید خچر سے گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا، اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، پھر میں نعمان کے پاس آیا تو ان میں ابھی کچھ سانس باقی تھی، میں پانی لایا اور ان کے چہرے پر ڈال کر مٹی دھونے لگا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: معقل بن یسار، انہوں نے پوچھا: لوگوں کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی ہے، انہوں نے کہا: الحمد للہ، اس کی خبر عمر (رضی اللہ عنہ) کو لکھ دینا، پھر ان کی روح پرواز کر گئی، لوگ اشعث بن قیس کے پاس جمع ہوئے، راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کی اہلیہ (ام ولد) کے پاس گئے اور پوچھا: کیا انہوں نے کوئی وصیت کی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے ایک چھوٹی ٹوکری (سفیط) کے جس میں ایک تحریر ہے، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: اگر فلاں قتل ہو جائے تو اس کے بعد فلاں امیر ہوگا، اور اگر وہ قتل ہو جائے تو فلاں... ۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5362
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عِمران الجَوْني: هو عبد الملك بن حَبيب.» [ترقيم الرساله 5362] [ترقيم الشركة 5316] [ترقيم العلميه 5279]