کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا سعید بن عامر بن حِذیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: سعيد بن عامر بن حِذْيَم بن سَلَامان بن ربيعة بن سعد بن جُمَحَ، وكان باهرًا، ولَّاه عمرُ بعضَ أجنادِ الشام، فمات وهو على عَمَلِه بالشام سنة عشرين (1).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں کہ سعید بن عامر بن حذیم بن سلامان بن ربیعہ بن سعد بن جمح رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کے بعض لشکروں کا امیر (گورنر) مقرر فرمایا تھا اور ان کی وفات وہیں سنہ 20 ہجری میں اپنے عہدے کے دوران ہوئی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5335
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5335] [ترقيم الشركة 5290]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا محمد بن الطَّفيل، حدثنا شَريك، عن جامع بن أبي راشد، عن زيد بن أسلم: أنَّ عُمر قال لسعيد بن عامر بن حِذْيَم: ما لأهل الشام يُحبُّونك؟ قال: أُغازِيهم وأُواسِيهم، فأعطاهُ عشرةَ آلافٍ، فردَّها، وقال: إنَّ لي أعبُدًا وأفراسًا، وأنا بخيرٍ، وأريد أن يكون عملي صدقةً على المسلمين، فقال عمر: لا تفعل، إنَّ رسولَ الله ﷺ أعطاني مالًا دُونَها، فقلتُ نحوًا ممّا قلتَ، فقال لي: "إذا أعطاكَ اللهُ مالًا لم تَسأْلهُ، ولم تَشْرَهْ نفسُك إليه، فخُذْه، فإنما هو رِزقُ اللهِ أعطاكَ إيَّاهُ" (2). ذكرُ أنس بن مرثد بن أبي مَرثَد الغَنَوي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5254 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: شام والے آپ سے اس قدر محبت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں ان کے ساتھ مل کر جہاد کرتا ہوں اور ان کی غمخواری و برابری کرتا ہوں، تب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دس ہزار (درہم) دیے تو انہوں نے واپس کر دیے اور کہا: میرے پاس غلام اور گھوڑے موجود ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں کے لیے صدقہ (محض اللہ کی خاطر) رہے، سیدنا عمر نے فرمایا: ایسا نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس سے کم مال دیا تھا تو میں نے بھی وہی کہا تھا جو تم کہہ رہے ہو، تب آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”جب اللہ تمہیں ایسا مال عطا فرمائے جس کا تم نے سوال نہ کیا ہو اور نہ تمہارا نفس اس کا حریص ہو، تو اسے لے لیا کرو کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے جو اس نے تمہیں عنایت فرمایا ہے۔“
انس بن مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5336
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، والمحفوظ فيه أنه عن زيد بن أسلم عن أبيه أسلم مولى عمر بن الخطاب، فهو موصول. وقد رويت قصة عمر مع النبي ﷺ من جوه عدة. شريك: هو ابن عبد الله النخعي.» [ترقيم الرساله 5336] [ترقيم الشركة 5291] [ترقيم العلميه 5254]