کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو الہیثم رضی اللہ عنہ کی وفات خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوئی
حدثنا (2) سعيدُ بن راشِد عن صالح بن كَيْسان قال: تُوفي أبو الهَيثم ابن التَّيَّهان في خلافة عمر بن الخطاب (3).
حافظ طلحہ بابر
صالح بن کیسان سے مروی ہے کہ ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔
وحدثنا (4) إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حَبيبة، سمعتُ شيوخَ أهلِ الدارِ - يعني بني عبد الأشْهَل - يقولون مات أبو الهيثَم بن التَّيهان سنة عشرين بالمدينة (5).
حافظ طلحہ بابر
بنو عبد الاشہل کے بزرگوں سے مروی ہے کہ ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ 20 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هِلال بن بِشْر، حدثنا أبو خلف عبد الله بن عيسى، عن يونس بن عُبيد، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ خَرج ذاتَ يومٍ من بيته عند الظَّهِيرة، فرأى أبا بكر جالسًا في المسجد، فقال: "ما أخرجَك يا أبا بكرٍ هذه الساعةَ؟ " قال: أخرجَني الذي أخرجَك يا رسول الله، ثم جاء عمرُ، فقال: "ما أخرجك يا ابن الخَطّاب؟ " فقال: الذي أخرجَكما يا رسول الله، فقَعَدَ رسولُ الله ﷺ يتحدّث معهما، ثم قال: "هل بكُما من قُوّة، فتَنطَلِقان إلى هذه النَّخْل - وأومأْ بيده إلى دُور الأنصارِ - تُصِيبان طعامًا وشرابًا وظِلًّا إن شاء الله؟ " قلنا: نعم، فانطلق رسولُ الله ﷺ، وانطلَقْنا معه، وذكَرَ الحديثَ (1). ذكرُ مناقب سعيد بن عامر بن حِذْيَم ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5252 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5252 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت اپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوبکر! اس وقت تمہیں کس چیز نے گھر سے نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسی ضرورت (بھوک) نے جس نے آپ کو نکالا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے خطاب کے بیٹے! تمہیں کس چیز نے نکالا؟“ انہوں نے بھی وہی عرض کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان دونوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو فرمانے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں اتنی قوت ہے کہ ہم ان کھجوروں کے باغوں کی طرف چلیں - آپ ﷺ نے انصار کے گھروں کی طرف اشارہ فرمایا - تاکہ ان شاء اللہ کھانا، پینا اور سایہ میسر آ سکے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، پھر رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑے۔
سیدنا سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
سیدنا سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔