حدیث نمبر: 5337
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وأنس بن مرثد بن أبي مرثد الغَنَوي يُكنى أبا يزيدَ، حليفُ حمزةَ بن عبد المُطّلب، وكان مَوتُه سنةَ عشرين، في شهر ربيع الأول، وكان بينَه وبين أبيه في السِّنّ إحدى وعشرون سنةً (1). قد ذكرتُ فيما تقدَّم أبا مَرثَد الغَنَوي وبعدَه ابنَه مَرثَد (2)، وهذا الحفيد، وكلُّهم من الصحابة ﵃. ذكرُ أُسَيد بن حُضَير الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5255 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر کہتے ہیں کہ انس بن مرثد بن ابی مرثد غنوی کی کنیت ابو یزید تھی، وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے، ان کی وفات ربیع الاول سنہ 20 ہجری میں ہوئی، ان کے اور ان کے والد کی عمر میں اکیس سال کا فرق تھا۔ میں اس سے پہلے ابو مرثد غنوی اور پھر ان کے بیٹے مرثد کا ذکر کر چکا ہوں، اور یہ ان کے پوتے ہیں، اور یہ تینوں نسلیں صحابی رسول ہیں۔
اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5337
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5337] [ترقيم الشركة 5292] [ترقيم العلميه 5255]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 5/ 105 عن محمد بن عمر الواقدي عن شيخ من غَنِيٍّ.
حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (5/ 105) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے، جو قبیلہ "غنی" کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں۔
كذا نقله الواقديُّ عن شيخ غنويٍّ. وسمَّى الرجلَ أُنيسًا، بالتصغير. قال ابن عبد البر في "الاستيعاب" (48): أنيس بن مرثد … ويقال أنس، والأول أكثر.
فنی نکتہ / علّت: واقدی نے اسے اسی طرح ایک غنوی شیخ سے نقل کیا ہے اور اس آدمی کا نام (تصغیر کے ساتھ) "اُنیس" بتایا ہے۔ ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (48) میں کہا: "انیس بن مرثد... اور انہیں انس بھی کہا جاتا ہے، لیکن پہلا قول (انیس) زیادہ (رائج) ہے۔"
(2) تقدما برقم (5034) وما بعده.
نوٹ / توضیح: (2) یہ دونوں نمبر (5034) اور اس کے بعد گزر چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5337 سے ماخوذ ہے۔