کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الشافعي، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حُسام بن مِصَكٍّ، عن قَتَادة، عن القاسم بن رَبيعة، عن زيد بن أرقَمَ، قال: قال رسول الله ﷺ: "نِعمَ المَرْءُ بلالٌ، هو سيِّد المؤذِّنِين، ولا يَتبَعُه إلَّا مُؤذّنٌ، والمؤذِّنون أطولُ الناس أعناقًا يومَ القيامة" (2) تفرَّد به حُسَام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5244 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5244 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال کیا ہی خوب آدمی ہیں، وہ مؤذنوں کے سردار ہیں، ان کی پیروی صرف مؤذن ہی کریں گے، اور قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں تمام لوگوں سے زیادہ لمبی (نمایاں) ہوں گی۔“ حسام اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، حدثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: أصبحَ رسولُ الله ﷺ يومًا فدعا بلالًا، فقال: "يا بلالُ، بمَ سَبقْتَني إلى الجنةِ، إني دخلت البارحةَ الجنةَ فسمعتُ خَشْخَشتَكَ أمامي، فأتيتُ على قَصْرٍ من ذهبِ مُربَّعٍ مُشرِف، فقلت: لمن هذا القصرُ؟ فقالوا: لرجلٍ من أمّة محمدٍ، قلت: أنا محمد، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجلٍ من العرب، فقلتُ: إني عَربيّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجل من قُريش، فقلت: أنا قُرشيٌّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لعُمرَ بن الخَطّاب"، فقال بلالٌ: يا رسول الله، ما أذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صلَّيتُ ركعتَين، وما أصابني حَدَثٌ قطُّ إِلَّا توضأتُ عندها، فقال رسول الله ﷺ: "بِهَذا" (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5245 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5245 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے بلال! تم جنت میں مجھ سے پہلے کس عمل کی وجہ سے پہنچے؟ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی، پھر میں سونے کے ایک چوکور اور بلند محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: امتِ محمد کے ایک شخص کا، میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک عربی کا، میں نے کہا: میں عربی ہوں، یہ کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: قریش کے ایک شخص کا، میں نے کہا: میں قریشی ہوں، یہ کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب کا“، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جب بھی اذان دی ہے تو اس کے بعد دو رکعت (نفل) ضرور پڑھے ہیں، اور مجھے جب بھی بے وضو ہونے کی نوبت آئی تو میں نے اسی وقت وضو کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسی عمل کی وجہ سے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إبراهيم بن فِراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن سُلَيم بن عامر، عن أبي أُمامة، عن عمرو بن عَبَسة قال: رأيتُ النبيَّ ﷺ وهو نازلٌ بعُكَاظ، فقلتُ: مَن معك على هذا الأمر؟ فقال: "رجلانِ: أبو بكر وبلالٌ"، فأسلمتُ، ولقد رأيتُني وأنا رُبعُ الإسلام (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5246 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5246 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو عکاظ میں قیام کے دوران دیکھا تو میں نے پوچھا: اس معاملے (دین) میں آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو شخص: ابوبکر اور بلال“، چنانچہ میں اسلام لے آیا اور میں نے خود کو اسلام لانے والوں میں چوتھا شخص پایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔