حدیث نمبر: 5328
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، حدثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: أصبحَ رسولُ الله ﷺ يومًا فدعا بلالًا، فقال: "يا بلالُ، بمَ سَبقْتَني إلى الجنةِ، إني دخلت البارحةَ الجنةَ فسمعتُ خَشْخَشتَكَ أمامي، فأتيتُ على قَصْرٍ من ذهبِ مُربَّعٍ مُشرِف، فقلت: لمن هذا القصرُ؟ فقالوا: لرجلٍ من أمّة محمدٍ، قلت: أنا محمد، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجلٍ من العرب، فقلتُ: إني عَربيّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجل من قُريش، فقلت: أنا قُرشيٌّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لعُمرَ بن الخَطّاب"، فقال بلالٌ: يا رسول الله، ما أذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صلَّيتُ ركعتَين، وما أصابني حَدَثٌ قطُّ إِلَّا توضأتُ عندها، فقال رسول الله ﷺ: "بِهَذا" (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5245 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے بلال! تم جنت میں مجھ سے پہلے کس عمل کی وجہ سے پہنچے؟ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی، پھر میں سونے کے ایک چوکور اور بلند محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: امتِ محمد کے ایک شخص کا، میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک عربی کا، میں نے کہا: میں عربی ہوں، یہ کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: قریش کے ایک شخص کا، میں نے کہا: میں قریشی ہوں، یہ کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب کا“، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جب بھی اذان دی ہے تو اس کے بعد دو رکعت (نفل) ضرور پڑھے ہیں، اور مجھے جب بھی بے وضو ہونے کی نوبت آئی تو میں نے اسی وقت وضو کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسی عمل کی وجہ سے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5328
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسنٌ من أجل محمد بن موسى الباشاني» [ترقيم الرساله 5328] [ترقيم الشركة 5281] [ترقيم العلميه 5245]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسنٌ من أجل محمد بن موسى الباشاني - وهو ابن حاتم - وقد توبع، والحسين بن واقد وهو المروزي - صدوق لا بأس به.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "قوی" ہے، اور یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ "محمد بن موسیٰ الباشانی" (ابن حاتم) ہیں، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور حسین بن واقد (المروزی) "صدوق" (سچے) ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)۔
وأخرجه أحمد 38/ (23040) عن علي بن الحَسَن بن شَقيق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23040) نے علی بن الحسن بن شقیق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22996)، وابن حبان (7086) من طريق زيد بن الحُباب، والترمذي (3689) من طريق علي بن الحُسين بن واقد، كلاهما عن الحُسين بن واقد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22996) اور ابن حبان (7086) نے زید بن الحباب کے طریق سے، اور ترمذی (3689) نے علی بن الحسین بن واقد کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں (زید اور علی) حسین بن واقد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (1193) من طريق عبد الله بن علي الغزّال عن علي بن الحَسن بن شقيق، مختصرًا بقصة بلال بن رباح.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1193) پر عبد اللہ بن علی الغزّال کے طریق سے گزر چکی ہے جو علی بن الحسن بن شقیق سے روایت کرتے ہیں، وہاں یہ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے قصے پر مختصراً مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5328 سے ماخوذ ہے۔