کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور نرمی کا بیان
حدثني علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك، قال: كان معاذُ بن جَبَل شابًا جميلًا سَمْحًا من خير شَبابِ قَومِه، لا يُسأل شيئًا إلَّا أعطاهُ، حتى ادَّانَ دَينًا أغلَقَ مالَه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5179 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5179 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
کعب بن مالک کے صاحبزادے سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک انتہائی خوبصورت، سخی اور اپنی قوم کے بہترین نوجوانوں میں سے تھے، ان سے جو بھی چیز مانگی جاتی وہ اسے عطا فرما دیتے یہاں تک کہ وہ اتنے زیادہ قرض دار ہو گئے کہ ان کا سارا مال اس کی ادائیگی میں ختم ہو گیا۔
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن الحارث بن يعقوب، عن قيس بن رافع، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن عبد الله بن عمرو: أنه مرَّ بمعاذ بن جَبَل وهو قائم على بابِه يُشير بيدِه، كأنه يُحدَّث نفسَه، فقال له عبد الله: ما شأنُك يا أبا عبد الرحمن، كأنك تُحدِّث نفسَك؟ (2)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنے دروازے پر کھڑے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے جیسے خود سے کلام کر رہے ہوں، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”اے ابو عبدالرحمن! آپ کو کیا ہوا، آپ تو ایسے لگ رہے ہیں جیسے خود سے کلام کر رہے ہوں؟“