المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
سَمَاحَةُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ باب: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور نرمی کا بیان
حدیث نمبر: 5261
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن الحارث بن يعقوب، عن قيس بن رافع، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن عبد الله بن عمرو: أنه مرَّ بمعاذ بن جَبَل وهو قائم على بابِه يُشير بيدِه، كأنه يُحدَّث نفسَه، فقال له عبد الله: ما شأنُك يا أبا عبد الرحمن، كأنك تُحدِّث نفسَك؟ (2)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنے دروازے پر کھڑے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے جیسے خود سے کلام کر رہے ہوں، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”اے ابو عبدالرحمن! آپ کو کیا ہوا، آپ تو ایسے لگ رہے ہیں جیسے خود سے کلام کر رہے ہوں؟“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل قيس بن رافع. وقد تقدَّم عند المصنف برقم (861) و (2481).
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "قیس بن رافع" کی وجہ سے حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے بھی نمبر (861) اور (2481) کے تحت گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "قیس بن رافع" کی وجہ سے حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے بھی نمبر (861) اور (2481) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5261 سے ماخوذ ہے۔