کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد) کے مناقب کا بیان
أخبرني أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة، قال: كان عِكْرمةُ بن أبي جهل يأخذُ المُصحَف فيضعُه على وجهِه ويَبْكي، ويقول: كلامُ ربّي كتابُ ربِّي (1). ذكرُ مناقب أبي قُحَافة والد أبي بَكْر ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5062 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5062 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ قرآن مجید کو (عقیدت سے) اپنے چہرے پر رکھتے اور روتے ہوئے کہتے تھے: ”میرے رب کا کلام، میرے رب کی کتاب۔“
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر:
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر:
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: وأما أبو قُحَافة التَّيمي فإنه عثمان بن عامر بن عَمرو بن كعب بن سَعْد بن تَيْم بن مُرّة، أسلم يوم فتح مكة، وتُوفي بمكة في المُحرّم سنة أربعَ عشرة من الهجرة، وهو ابن سبع وتسعين سنةً.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ ابوقحافہ تیمی رضی اللہ عنہ کا نام عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا، انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا اور ہجرت کے چودہویں سال ماہِ محرم میں ستانوے سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔
حدثني القاضي أبو بكر محمد بن عمر بن سَلْم (1) بن الجِعَابي الحافظ الأوحد، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا أبي (2) الحَسن بن أحمد بن أبي شعيب، حدثنا محمد بن سَلَمة (3)، عن هشام بن حسان. عن محمد بن سيرين، عن أنس، قال: جاء أبو بكر يوم فَتْح مكةَ بأبيه أبي قُحَافة إلى رسول الله ﷺ فقال رسول الله ﷺ: "لو قَرَّرْتَ الشيخَ في بيتِه لأتَيناهُ" (4). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5064 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5064 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے والد ابوقحافہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ان بزرگ کو ان کے گھر میں ہی رہنے دیتے تو ہم خود ان کے پاس چلے جاتے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حسين بن محمد المرُّوْذِي، حدثنا عبد الله بن عبد الملك الفِهْري، حدثنا القاسم بن محمد بن أبي بكر، عن أبيه، عن أبي بكر، قال: جئتُ بأبي قُحافةَ إلى رسول الله ﷺ، فقال: "هَلّا تركتَ الشيخَ حتى آتيهَ؟ " فقلت: بل هو أحقُّ أن يأتيَك، قال: "إنا لَنحفَظُه لأيادي ابنه عندَنا" (5). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5065 - عبد الله بن عبد الملك الفهري منكر الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5065 - عبد الله بن عبد الملك الفهري منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابوقحافہ کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ان بزرگ کو وہیں کیوں نہ رہنے دیا کہ میں خود ان کے پاس آ جاتا؟“ میں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) بلکہ وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ہم ان کے بیٹے (ابوبکر) کے ہمارے اوپر احسانات کی وجہ سے ان کا لحاظ اور احترام کرتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا الحجَّاج بن أبي مَنيع، حدثنا جَدِّي، عن الزُّهْري، قال: اسمُ أبي قُحافة عثمانُ بن عامر بن عَمرو بن كعب بن سعْد بن تَيْم بن مُرّة بن كعب بن لُؤي بن غالب بن فِهْر، أسلم يومَ الفتح، ومات في المحرّم سنة أربعَ عشرةَ، وهو ابن سبعٍ وتسعين سنةً (1).
حافظ طلحہ بابر
امام زہری بیان کرتے ہیں کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کا نام عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر تھا، وہ فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور سن 14 ہجری کے ماہِ محرم میں وفات پائی، اس وقت ان کی عمر ستانوے برس تھی۔