حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، في تسمية مَن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ مِن بني زُريق [بن] عامر، ثم من بني العَجْلان: رافعُ بن مالك بن العَجْلان الزُّرَقي (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق بنو زریق بن عامر سے تعلق رکھنے والے غزوہ بدر کے شرکاء کے ناموں کے ذیل میں بیان کرتے ہیں: سیدنا رافع بن مالک بن عجلان زرقی رضی اللہ عنہ۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن شاذان ومحمد بن نُعَيم، وأحمد بن سَلَمة، قالوا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا رِفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع، عن عمِّ أبيه مُعاذ بن رِفاعة، عن جَدِّه رافع بن مالك، قال: صلَّيتُ خلفَ رسولِ الله ﷺ فعَطَستُ، فقلت: الحمدُ لله حمدًا كثيرًا طيبًا مُبارَكًا فيه مبارَكًا عليه، كما يُحبُّ ربُّنا ويَرضى، فلما صلَّى رسولُ الله ﷺ انصرفَ فقال: "مَن المُتكلِّم في الصلاةِ؟ " فقال رفاعة بن رافع (2): أنا يا رسول الله، قال: "فكيف قُلتَ؟ " قال: قلتُ الحمدُ لله حمدًا كثيرًا طيبًا مباركًا فيه، كما يُحِبُّ ربُّنا ويَرضى فقال النبيُّ ﷺ: والذي نَفْسي بيَدِه، لقد ابتَدَرَها بِضعةٌ (1) وثلاثون مَلَكًا أَيُّهم يَصعَدُ بها" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5023 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5023 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو مجھے چھینک آئی، میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہو، جس میں برکت دی گئی ہو، جیسا کہ ہمارا رب پسند کرتا ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔“ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مڑ کر دریافت فرمایا: ”نماز میں (یہ کلمات) کہنے والا کون تھا؟“ تو رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے (مذکورہ بالا الفاظ) کہے تھے، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تیس سے کچھ زائد فرشتے اس کلمہ کی طرف لپکے کہ ان میں سے کون اسے لے کر اوپر چڑھے۔“
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا قُتيبة بن سعيد، وما كَتبناهُ إلَّا عنه، فذكر الحديثَ بمثلِه (3). ذكرُ (1) رِفاعةَ بن رافِع الزُّرَقي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
محمد بن صالح بن ہانی نے اسی مفہوم کی روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے جس میں سابقہ حدیث کے مثل ہی الفاظ مروی ہیں۔
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر:
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر: