کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے
حدثني أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا الواقديّ، حدثنا عُمر بن عثمان الجَحْشي، عن آبائه، عن أمّ قَيْس بنت مِحصَنٍ، قالت: توفي رسولُ الله ﷺ وعُكّاشة ابن أربعين سنةً، وقُتل بعد ذلك بسنة ببُزَاخة في خلافة أبي بكر سنة ثنتي عشرةَ، وكان عُكّاشة من أجملِ الناسِ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ چالیس برس کے تھے، اور اس کے ایک سال بعد سن 12 ہجری میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مقامِ بزاخہ پر شہید ہوئے، اور عکاشہ رضی اللہ عنہ خوبصورت ترین انسانوں میں سے تھے۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عَمرو بن عَلْقمة، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "أولُ زُمْرة تَدخُلُ الجنةَ وجوهُهم على ضَوْءِ القَمر ليلةَ البدرِ، ثم الذين يَلُونَهم على أحسنِ كَوكبٍ دُرِّيٍّ إضاءةً في السماء" فقام عُكَّاشة بن مِحصَنٍ، فقال: يا رسول الله، ادْعُ الله أن يجعلَني منهم، فقال: "اللهمَّ اجعَلْه منهم" فقام رجلٌ آخر، فقال: يا رسول الله، ادْعُ الله أن يَجعلَني منهم، فقال: "سَبَقَك إليها عُكَّاشةُ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5010 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5010 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے چہروں کے ساتھ داخل ہوگا، پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے جو آسمان میں چمکنے والے روشن ترین ستارے کی مانند ہوں گے۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما دے۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔