حدیث نمبر: 5079
حدثني أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا الواقديّ، حدثنا عُمر بن عثمان الجَحْشي، عن آبائه، عن أمّ قَيْس بنت مِحصَنٍ، قالت: توفي رسولُ الله ﷺ وعُكّاشة ابن أربعين سنةً، وقُتل بعد ذلك بسنة ببُزَاخة في خلافة أبي بكر سنة ثنتي عشرةَ، وكان عُكّاشة من أجملِ الناسِ (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ چالیس برس کے تھے، اور اس کے ایک سال بعد سن 12 ہجری میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مقامِ بزاخہ پر شہید ہوئے، اور عکاشہ رضی اللہ عنہ خوبصورت ترین انسانوں میں سے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5079
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5079] [ترقيم الشركة 5041]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 86 عن محمد بن عمر الواقدي، غير أنه قال في روايته: وعكاشة ابن أربع وأربعين سنة. وابنُ سعد أوثق من سليمان بن داود: وهو الشاذكوني. وأخرج ابن سعد 3/ 432 قصة استشهاد عُكّاشةَ بن محصن ببزُاخة بطولها عن محمد بن عمر الواقدي، عن سعيد بن محمد بن أبي زيد، عن عيسى بن تُميلة الفزاري، عن أبيه مرسلًا، وفيه: أنَّ قاتِلَ عكاشة هو طُلَيحة وسلمة ابنا خويلد الأسدي.
حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/ 86) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے، البتہ انہوں نے اپنی روایت میں یہ کہا کہ "عکاشہ کی عمر 44 سال تھی۔"
تحقیقِ راوی: ابن سعد (راوی) سلیمان بن داؤد (جو کہ شاذکونی ہیں) سے زیادہ ثقہ ہیں۔
تفصیلِ روایت: ابن سعد (3/ 432) نے مقامِ بزاخہ میں عکاشہ بن محصن کی شہادت کا تفصیلی واقعہ واقدی کے طریق سے عیسیٰ بن تمیلہ الفزاری سے، اور انہوں نے اپنے والد سے "مرسلاً" نقل کیا ہے، جس میں ہے کہ عکاشہ کے قاتل طلیحہ اور سلمہ (دونوں خویلد الاسدی کے بیٹے) تھے۔
قال البيهقي في "الدلائل" 6/ 353: مشهور فيما بين أهل المغازي أنَّ عكاشة استُشهد في أيام أبي بكر الصديق ﵁.
تاریخی نکتہ: امام بیہقی "الدلائل" (6/ 353) میں فرماتے ہیں: "اہلِ مغازی (سیرت نگاروں) کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ عکاشہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں شہید ہوئے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5079 سے ماخوذ ہے۔