کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حنظلہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ کی حالتِ جنابت میں شہادت اور فرشتوں کا غسل دینا
حَدَّثَنَا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم ابن إسحاق بن إبراهيم بن عيسى بن مَسْلمة بن سُليمان بن عبد الله بن أبي عامر بن عبد عَمرو، حدثني أبي، عن أبيه، عن جدِّه: أَنَّ حَنْظلة بن أبي عامر تَزوَّج فدَخَل بأهله الليلةَ التي كانت صبيحتُها يومَ أُحُدٍ، فلما صلَّى الصبحَ لَزِمَته جميلةُ، فعادَ فكان معها، فأجنَبَ منها، ثم أنه لَحِقَ برسولِ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4916 - إسناده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4916 - إسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن اسحاق اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور اس رات اپنی اہلیہ کے پاس رہے جس کی صبح غزوہ احد کا معرکہ ہونا تھا، جب انہوں نے صبح کی نماز پڑھ لی تو جمیلہ (ان کی اہلیہ) ان کو دوبارہ پکڑ لیا، وہ دوبارہ ان کے پاس چلے گئے اور ان سے ہم بستر ہوئے جس سے وہ جنبی ہو گئے، پھر وہ (غسل کا وقت نہ ملنے پر) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا ملے۔
فأخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حَدَّثَنَا سعيد بن يحيى الأُموي، حدثني أبي، قال: قال ابن إسحاق: حدثني يحيى بن عَبّاد بن عبد الله، عن أبيه، عن جده قال: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول عند قتلِ حنظلةَ بن أبي عامر بعد أن الْتقى هو وأبو سفيان بن الحارث ثم عَلاهُ شدادُ بن الأسود بالسيف فقتلَه، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ صاحبَكم تُغسِّلُه الملائكةُ، فسَلُوا (2) صاحِبتَه" فقالت: إنه خرجَ لما سمِع الهائعةَ وهو جُنُب، فقال رسول الله ﷺ: "لذلك غَسَّلتُه الملائكةُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4917 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4917 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حنظلہ بن ابی عامر کی شہادت کے وقت فرماتے ہوئے سنا، جبکہ ان کا اور ابوسفیان بن حارث کا سامنا ہوا تھا اور شداد بن اسود نے ان پر تلوار سے وار کر کے انہیں شہید کر دیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، پس ان کی اہلیہ سے (اس کا سبب) پوچھو“، انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے جنگ کی پکار سنی تو وہ جنبی ہونے کی حالت میں ہی (بغیر غسل کیے) نکل کھڑے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسی وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔